برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانوں میں ان دنوں ایک سوال موضوعِ بحث بنا ہوا ہے کہ کیا وزیرِاعظم اینڈی برنہم مقررہ مدت سے پہلے ملک میں عام انتخابات کرانے کا فیصلہ کریں گے؟ اگرچہ اگلے عام انتخابات کے انعقاد میں ابھی تقریباً 3 سال باقی ہیں اور وزیرِاعظم متعدد مرتبہ قبل از وقت انتخابات کے امکان کو واضح طور پر مسترد کر چکے ہیں، تاہم سیاسی حلقوں میں اس حوالے سے قیاس آرائیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
بدھ کے روز وزیرِ خزانہ جان ہیلی کے پیش کردہ بجٹ کے بعد قبل از وقت انتخابات کی بحث نے مزید شدت اختیار کر لی ہے، لیبر پارٹی کے بعض سابق وزراء کا کہنا ہے کہ حکومت نے بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے چند سیاسی طور پر مقبول اقدامات کا اعلان کیا ہے، جبکہ فلاحی اخراجات اور دفاعی بجٹ سے متعلق مشکل اور غیر مقبول فیصلے موسمِ خزاں کے اخراجاتی جائزے تک مؤخر کر دیے گئے ہیں۔
ان کا سوال ہے کہ اگر حکومت جلد انتخابات کرانے کا ارادہ نہیں رکھتی تو پھر مشکل فیصلوں کو آگے کیوں دھکیلا جا رہا ہے؟
بعض سیاسی مبصرین کے مطابق جان ہیلی کا بجٹ بظاہر انتخابی مہم کے پروگرام کی جھلک پیش کرتا ہے، اس میں عوام کو مہنگائی اور توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے ریلیف دینے کے لیے متعدد اقدامات شامل ہیں، ان میں لاکھوں گھرانوں کو توانائی کے بلوں کی مد میں 100 پاؤنڈ کی امداد اور بجلی کے بلوں پر ٹیکس میں کمی کے اقدامات شامل ہیں۔
اس کے علاوہ نوجوانوں کو اپنا پہلا گھر خریدنے میں مدد دینے کے لیے ’یور فرسٹ ہوم‘ اسکیم بھی متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت گھر خریدنے کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
کنزرویٹو پارٹی کی سربراہ کیمی بیڈینوک نے سوال اٹھایا ہے کہ حکومت کی جانب سے عوام کو دی جانے والی بعض رعایتیں صرف موسمِ گرما تک کیوں محدود رکھی گئی ہیں؟
ان کے خیال میں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وزیرِ اعظم ان سہولتوں کی مدت ختم ہونے سے پہلے عام انتخابات کا اعلان کرنا چاہتے ہوں، تاہم حکومت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ موسمِ گرما میں گھریلو توانائی کے اخراجات عموماً کم ہو جاتے ہیں۔
دوسری جانب بعض ارکانِ پارلیمنٹ کا خیال ہے کہ وزیرِ اعظم اس وقت سیاسی طور پر نسبتاً بہتر پوزیشن میں ہیں اور مختلف رائے عامہ کے جائزوں میں لیبر پارٹی کو برتری حاصل ہے، ریفارم یو کے جو گزشتہ کئی ماہ سے بعض سرویز میں آگے تھی، حالیہ عرصے میں سیاسی مشکلات کا سامنا کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
اس صورتِ حال میں بعض لیبر ارکان کا خیال ہے کہ وزیرِاعظم کے لیے اپنی سیاسی مقبولیت سے فائدہ اٹھانے کا یہ مناسب موقع ہو سکتا ہے، تاہم حکومت کو کئی بڑے مالیاتی چیلنجز کا بھی سامنا ہے، دفاعی اخراجات میں اضافے کے لیے رقم کہاں سے آئے گی؟ فلاحی بجٹ میں کس طرح کمی کی جائے گی؟ اور سرکاری محکموں کے اخراجات کم کر کے مالیاتی خسارے کو کس طرح قابو میں رکھا جائے گا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات حکومت کو ابھی تلاش کرنا ہیں۔
ایک کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ کے مطابق وزیرِاعظم تمام مشکل فیصلے انتخابات کے بعد تک مؤخر کر رہے ہیں۔
لبرل ڈیموکریٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ 10 دسمبر کو عام انتخابات کے انعقاد کا 30 فیصد امکان ہے اور پارٹی نے اپنی انتخابی تیاریوں کو بھی تیز کر دیا ہے، دوسری جانب ریفارم یوکے کے سربراہ نائجل فراج نے مئی میں عام انتخابات کے امکان کا اظہار کیا ہے، تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ قبل از وقت انتخابات کی زیادہ تر باتیں حزبِ اختلاف کے ارکان کی جانب سے سامنے آ رہی ہیں، جن میں سے بعض حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں۔
قانونی طور پر برطانیہ میں اگست 2029ء تک عام انتخابات کرانا ضروری ہیں، لیکن لیبر پارٹی کے بعض ارکان اس امکان کو اتنا سنجیدہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے عملے کو اگلے سال کی پہلی ششماہی میں انتخابات کی تیاری کرنے کی ہدایت بھی کر دی ہے۔
اس کے باوجود وزیرِاعظم اینڈی برنہم مسلسل واضح کر رہے ہیں کہ اگلے 12 ماہ میں عام انتخابات نہیں ہوں گے، انہوں نے بدھ کے روز بھی اس مؤقف کا اعادہ کیا۔
بعض سیاسی رہنماؤں کا خیال ہے کہ بار بار تردید کے بعد اچانک انتخابات کا اعلان ان کی سیاسی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ برطانیہ کی مجموعی معاشی صورتحال بھی حکومت کے لیے تشویش کا باعث ہے، بجٹ ذمے داری کے دفتر (او بی آر) کے مطابق آئندہ مہینوں میں حقیقی گھریلو قابلِ استعمال آمدنی میں کمی کا امکان ہے جبکہ شرحِ سود میں اضافے کی پیش گوئی بھی کی جا رہی ہے، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور عالمی توانائی منڈیوں میں غیر یقینی کیفیت نے بھی معاشی مشکلات بڑھا رکھی ہیں۔
وزیرِاعظم نے برطانوی ریاستی نظام میں بنیادی تبدیلیوں اور اصلاحات کا وعدہ کیا ہے اور آئندہ ہفتوں میں 10 سالہ منصوبہ پیش کرنے کا عندیہ دیا ہے، تاہم بعض لیبر ارکان کا کہنا ہے کہ حالیہ بجٹ میں ان بنیادی تبدیلیوں کی واضح جھلک نظر نہیں آئی۔
ایک سابق لیبر وزیر نے بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ گزشتہ 40 برسوں کی معاشی پالیسیوں سے انحراف کا کوئی واضح اعلان نہیں تھا، ایک دوسرے رکن پارلیمنٹ کے مطابق بجٹ انتخابی بجٹ محسوس نہیں ہوتا بلکہ حکومت نے محتاط راستہ اختیار کیا ہے۔
بعض ارکان کا یہ بھی کہنا ہے کہ گزشتہ عام انتخابات میں لیبر پارٹی کو بھاری اکثریت حاصل ہوئی تھی، اس لیے دوبارہ انتخابات کرانے کی صورت میں اس اکثریت میں کمی کا خدشہ موجود ہے، ان کے خیال میں اگر حکومت کو ٹیکسوں میں اضافے جیسے مشکل فیصلے کرنے ہیں تو اپنی موجودہ پارلیمانی اکثریت کے ذریعے ہی کر لینے چاہئیں۔
برطانیہ کی یورپی یونین سے قربت بڑھانے، انگلینڈ میں سماجی نگہداشت کے نظام کی اصلاح اور دیگر اہم پالیسی معاملات پر بھی حکومت کو فیصلے کرنا باقی ہیں۔
سیاسی حلقوں میں سابق وزیرِ اعظم گورڈن براؤن کی مثال بھی دی جا رہی ہے، جنہوں نے 2007ء میں اپنی مقبولیت کے باوجود قبل از وقت انتخابات کا اعلان نہیں کیا تھا، اس کے برعکس سابق وزیرِاعظم تھریسا مے نے اپریل 2017ء میں اچانک انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا، لیکن توقعات کے برخلاف کنزرویٹو پارٹی اپنی پارلیمانی اکثریت کھو بیٹھی تھی۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا اینڈی برنہم بھی قبل از وقت انتخابات کا خطرہ مول لیں گے یا اپنی حکومت کی مقررہ مدت پوری کرنے کو ترجیح دیں گے؟ وزیرِاعظم کے سامنے سیاسی مواقع کے ساتھ کئی بڑے معاشی اور انتظامی چیلنجز بھی موجود ہیں، اس لیے قبل از وقت انتخابات کا فیصلہ آسان دکھائی نہیں دیتا۔