سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو حد سے زیادہ لاڈ پیار اور تحفظ دینے کے بجائے انہیں زیادہ خطرے والی سرگرمیوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع دیں۔
ایک جامع تحقیق کے مطابق درختوں پر چڑھنے، ڈھلوان پر سائیکل چلانے اور کھلی جگہوں پر بہتے پانی میں کھیلنے والے بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے، جبکہ ان کی سیکھنے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں بھی زیادہ تیز ہوتی ہیں۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف ایکسیٹر اور یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا سے تعلق رکھنے والی تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ بچوں کو ایسی سرگرمیوں کی ترغیب دینا اسکرین کے بڑھتے ہوئے استعمال اور معاشرے میں خطرات سے حد سے زیادہ بچنے کے رجحان کا مقابلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
محققین نے تین سے 12 سال کی عمر کے بچوں کی صحت پر خطرے والی کھیلوں کی سرگرمیوں کے اثرات سے متعلق 74 سابقہ تحقیق کا تجزیہ کیا۔ خطرے والی سرگرمیوں سے مراد ایسی پرجوش اور سنسنی خیز سرگرمیاں ہیں جن میں تیز رفتاری سے ڈھلوان پر سائیکل چلانا، درختوں پر چڑھنا اور پانی میں اتر کر کھیلنا شامل ہیں۔
اس سے یہ معلوم ہوا کہ اس قسم کے کھیلوں میں حصہ لینے والے بچوں کی ذہنی صحت اور ذہنی حالی بہتر تھی۔ اس کے علاوہ جو بچے خود سے جسمانی سرگرمیاں کرتے، حتیٰ کہ خود پیدل اسکول جاتے تھے، وہ مجموعی طور پر بھی زیادہ جسمانی طور پر متحرک رہتے تھے۔
یونیورسٹی آف ایکسیٹر میں بچوں کی نفسیات کی پروفیسر ہیلن ڈوڈ نے اس حوالے سے کہا کہ اگر ہم بچوں کو اس قسم کے کھیلوں میں حصہ لینے کے مواقع سے محروم کردیں جنہیں گزشتہ نسلوں کے بچے معمول کے مطابق کھیلتے تھے، تو ہم ان سے سیکھنے کے قیمتی مواقع چھین لیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یقیناً ہم سب اپنے بچوں کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، لیکن اگر ہم صرف ان کی حفاظت پر توجہ دیں اور انہیں کھیل کے دوران خطرات کو سمجھنے اور آزمانے کے مواقع سے محروم کردیں، تو یہ ان کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ یہ نتائج تحقیقی جریدے پی ایل او ایس ون میں شائع ہوئے۔
پروفیسر ہیلن ڈوڈ نے کہا والدین کو چاہیے کہ وہ ان نتائج کو اہمیت دیں اور اپنے بچوں کو زیادہ آزادی فراہم کریں۔ ان کے مطابق بچوں کو دس گیارہ سال کی عمر میں باہر اکیلے کھیلنے یا پیدل اسکول جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ لیکن اس کے بجائے بچوں کو آٹھ سال کی عمر سے ہی خودمختاری دینا شروع کردینی چاہیے۔
پروفیسر ڈوڈ نے کہا مجھے تشویش اس پر ہے کہ بچے گھر میں ہی رہتے اور اکیلے باہر نہیں جاتے۔ پھر اچانک وہ ہائی اسکول پہنچ جاتے ہیں، جہاں انہیں بس پکڑنی پڑتی ہے یا پیدل اسکول جانا ہوتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے جب وہ مکمل خودمختار ہوجاتے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ بچوں کو آٹھ دس سال کی عمر میں ہی اپنے پرائمری اسکول پیدل جانے کی عادت ڈالنا شروع کردی جائے۔ تاہم بچوں کے لیے کھیلنے اور پیدل اسکول جانے کے محفوظ انتظامات ضروری ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس شعبے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ فی الحال ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ خطرے والی کھیلوں کی سرگرمیوں اور صحت کے مثبت نتائج کے درمیان تعلق موجود ہے، لیکن ہم یہ ضروری نہیں جانتے کہ ان سرگرمیوں سے ہی یہ فوائد حاصل ہوتے ہیں یا نہیں۔