برطانیہ میں مہنگائی 3.5 فیصد تک پہنچ گئی، شرحِ سود میں اضافے کا خدشہ

برطانیہ میں مہنگائی 3.5 فیصد تک پہنچ گئی ہے جس کے باعث شرحِ سود میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے جبکہ ایران جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے بجٹ میں عوامی ریلیف کے مطالبات زور پکڑنے کا بھی امکان پیدا ہوگیا۔ 

برطانیہ میں مہنگائی اور حکومتی قرضوں میں توقع سے زیادہ اضافے نے معیشت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں سالانہ مہنگائی کی شرح اگست کے 3.1 فیصد سے بڑھ کر 3.5 فیصد ہوگئی، جو گزشتہ 11 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ 

ماہرین نے مہنگائی 3.4 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی تھی، جبکہ بینک آف انگلینڈ کا تخمینہ 3 فیصد تھا۔

رپورٹ کے مطابق ایران جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا جبکہ فیکٹریوں سے نکلنے والی مصنوعات کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مہنگائی میں اضافے کے باعث بینک آف انگلینڈ کی جانب سے نومبر میں شرحِ سود بڑھانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم ایسا ہونے کی صورت میں متغیر شرحِ سود والی مارگیج اور دیگر قرضے مہنگے ہوسکتے ہیں۔

دوسری جانب آئندہ بجٹ میں حکومت پر عوام کو مہنگائی سے ریلیف دینے کے مطالبات بڑھنے کا امکان ہے۔ تاہم بڑھتے ہوئے قرضوں اور سرکاری اخراجات کے باعث حکومت کو مالی امداد اور بجٹ کے اہداف کے درمیان توازن قائم کرنے کا چیلنج درپیش ہوگا۔