پاکستانی کانٹینٹ کری ایٹر، اداکار ارسلان نصیر نے انکشاف کیا ہے کہ ضروریات پوری کرنے کے لیے میں نے سیکیورٹی گارڈ اور ڈیلیوری بوائے کے طور پر بھی کام کیا۔
حال ہی میں جیو نیوز کے پروگرام ’ہنسنا منع ہے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے اداکار نے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کے دوران پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ تعلیمی اخراجات اور دیگر ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف ملازمتیں کیں۔
انہوں نے بیرونِ ملک قیام کے تجربات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے روزمرہ کے کام خود انجام دینے پڑتے تھے، جبکہ پاکستان میں اہلِ خانہ کے ساتھ رہنے والے بہت سے نوجوانوں کو گھر میں ایسی سہولتیں میسر ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لڑکوں کی مائیں ہر چیز کا خیال رکھتی ہیں، یہاں تک کہ پھل چھیلنے جیسے کام بھی ان کے لیے کر دیے جاتے ہیں لیکن جب آپ بیرونِ ملک جاتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ وہاں ایسی سہولتیں نہیں ہوتیں، آپ کو اپنے لیے پھل بھی خود چھیلنا پڑتا ہے اور دوسرے کام بھی خود کرنے پڑتے ہیں۔
ارسلان نصیر نے انکشاف کیا کہ یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران میں نے سیکیورٹی گارڈ اور ڈیلیوری بوائے کے طور پر کام کیا، جبکہ میری پہلی ملازمت ایک پیزا شاپ میں کیشیئر کی تھی۔
ماضی کی مصروفیات یاد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ میرا معمول یہ تھا کہ صبح یونیورسٹی جاتا تھا اور پوری رات سیکیورٹی گارڈ کی ڈیوٹی کرتا تھا، ڈیوٹی کے دوران پڑھائی کے لیے کتابیں بھی اپنے ساتھ رکھتا تھا۔
تعلیم اور ملازمت کی بھاری ذمے داریاں ایک ساتھ نبھانے کے باوجود ارسلان نصیر نے ان تجربات کو خوش گوار اور یادگار قرار دیا۔
خیال رہے کہ ارسلان نصیر کو ان کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم ’کامکس بائے ارسلان‘ (CBA) کے ذریعے شہرت ملی، جہاں ان کے مزاحیہ مواد، ڈراموں کی پیروڈی اور کرکٹ سے متعلق ویڈیوز کو بڑی تعداد میں ناظرین نے پسند کیا۔
ٹیلی وژن پر اداکاری کا آغاز کرنے سے قبل وہ اینی میٹڈ سیریز ’برقع ایوینجر‘ کے اسکرپٹ پر بھی کام کر چکے ہیں۔
انہوں نے 2021ء میں رمضان ڈرامے چپکے چپکے سے ٹیلی وژن پر اداکاری کا آغاز کیا، بعد ازاں وہ پریستان، نیم اور رد سمیت دیگر ڈراموں میں بھی نظر آئے۔