ناروے کی پارلیمنٹ میں لیبر پارٹی ناروے پاکستان فرینڈ شپ گروپ کے ارکان پارلیمنٹ ٹرین لیز سنڈنس فرخ قریشی کی طرف سے ناروے کے وزیر خارجہ ایسپین بارتھ آئیڈ اور سفیر پاکستان عاصم علی خان کے ساتھ ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر ناروے کے وزیر خارجہ اور سفیر پاکستان نے موجودہ اور مستقبل کے دوستانہ تعلقات پر اظہار خیال کیا۔
عاصم علی خان نے کہا کہ میں ناروے میں اپنی سفارتی ذمہ داریوں کا آغاز کر رہا ہوں، تو اس کی بنیاد انتہائی مستحکم ہے کیونکہ پاکستان اور ناروے کے تعلقات طویل عرصے سے گرم جوشی، خوشگوار تعلقات اور باہمی احترام پر مبنی رہے ہیں۔ ناروے کے وزیر خارجہ کا حالیہ دورہ پاکستان دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔
انھوں نے کہا ہم تنازعات، معاشی غیر یقینی صورتحال، موسمیاتی تبدیلی اور بین الاقوامی نظام پر بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کے دور میں جی رہے ہیں۔
سفیر پاکستان نے کہا کہ ناروے نے ثابت کیا ہے کہ خاموش سفارت کاری وہ کچھ حاصل کر سکتی ہے جو طاقت کے ذریعے ممکن نہیں۔ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعے میں اسی جذبے کی پیروی کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہم نے ‘اسلام آباد مذاکرات’ کی میزبانی کی، جس کے نتیجے میں ‘اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت طے پائی، یہ کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے ایک لائحہ عمل تھا۔۔
انھوں نے کہا پاکستان فلسطین کے معاملے پر ناروے کے اصولی موقف اور انسانی مصائب پر اس کی واضح تشویش کو سراہتا ہے۔ ہم خلیجی خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے لیے ناروے کی حمایت کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
امن و امان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے یہ میری کوتاہی ہوگی اگر میں ناروے کی توجہ جنوبی ایشیا میں انتہائی تشویشناک دو معاملات کی جانب نہ دلاؤں۔ پہلا مسئلہ جموں و کشمیر کا تنازعہ ہے، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کا منتظر ہے۔ ان قراردادوں میں کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کا وعدہ کیا گیا ہے۔
اسی طرح ایک فریق کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا یکطرفہ اور غیر قانونی فیصلہ، اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا، جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کو شدید خطرے میں ڈالتا ہے۔
انھوں نے کہا ہم پاکستان میں ناروے کی جانب سے مزید سرمایہ کاری کا گرم جوشی سے خیرمقدم کریں گے، بشمول ہمارے آف شور تیل اور گیس کے وسائل کی تلاش اور ترقی کے شعبے میں۔ ہم ایک ایسی طویل مدتی اور باہمی طور پر فائدہ مند معاشی شراکت داری کے خواہاں ہیں جو ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، حفاظت اور ماحولیاتی ذمہ داری کے اعلیٰ معیارات، مہارتوں کی ترقی اور سب سے بڑھ کر اعتماد پر مبنی ہو۔
سفیر پاکستان نے کہا پن بجلی، شمسی اور ہوائی توانائی، گرڈ کی جدید کاری، توانائی کی بچت اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بنیادی ڈھانچے میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صحت کی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل عوامی خدمات کے شعبوں میں بھی تعاون کے زبردست امکانات موجود ہیں۔ تعلیم ہمارے تعلقات کا ایک اور اہم ستون ہونا چاہیے۔ یونیورسٹیوں، پیشہ ورانہ تربیتی اداروں، محققین اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان تعاون ایسے مواقع پیدا کر سکتا ہے جو عملی اور دیرپا ہوں۔ جب نوجوان مل کر کام کرتے ہیں تو وہ ایسے تعلقات استوار کرتے ہیں جو صرف حکومتیں قائم نہیں کر سکتیں۔
پاکستانی نژاد 60 ہزار سے زائد افراد نے ناروے کو اپنا گھر بنایا ہے۔ وہ کاروبار، تعلیم، عوامی زندگی، صحت اور دیگر شعبوں میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ پاکستانی نژاد نارویجن برادری محض دونوں ممالک کے درمیان ایک پل کا کردار ادا نہیں کرتی بلکہ یہ ان مضبوط ترین بنیادوں میں سے ایک ہے جن پر ہم اپنے تعلقات کے اگلے باب کی تعمیر کر سکتے ہیں۔