ویتنام سے لے کر موجودہ ایرانی بحران تک امریکا کی بین الاقوامی خارجہ پالیسی کی حکمت عملی کتنی قابل اعتبار ہے؟
برطانوی میڈیا نے امریکی خارجہ پالیسی کے انتہائی اہم اور مرکزی تصور قابل اعتبار حکمت کی حقیقت، اس کے ارتقا اور موجودہ میں اثر پذیری کا گہرا سیاسی تجزیہ کیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مضمون کا بنیادی نقطہ واشنگٹن کی خارجہ حکمت عملی صرف وعدے اور دھمکیوں تک محدود نہیں بلکہ یہ امریکی بالادستی، طاقت کے رعب اور سیاسی وقار کی علامت بن چکی ہے۔
ویتنام جنگ کی تاریخ بتاتی ہے کہ واضح حکمت عملی بغیر محض فوجی طاقت یا تشدد کے ذریعے خود کو معتبر ثابت کرنے کی کوشش سے دشمن جھکتا نہیں بلکہ جنگ طویل اور نہ ختم ہونے والے تنازع میں بدلتی ہے اور جو بالآخر امریکی اثر و رسوخ کی دیوار میں دراڑ پیدا کرگئی۔
مضمون کے مطابق گزشتہ کئی ماہ سے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ہے، اس دوران دی گئی معاشی دھمکیوں نے کئی سوال کھڑے کیے، جن میں سب سے بڑا یہ ہے کہ کیا اس فوجی کارروائی سے امریکا رعب قائم ہوا؟ بڑھا یا اس کے عالمی تاثر اور بیانات کی صداقت کو نقصان پہنچا ہے؟
قابل اعتبار حکمت عملی کا مطلب ہی یہ ہے کہ دنیا کو یقین ہو کہ کوئی ملک اپنے وعدوں اور دھمکیوں کو لازمی پورا کرے گا، اسی تناظر میں دنیا اب امریکی فوجی قوت، عزم اور اقدار کو دیکھتی ہے۔
مضمون کے مطابق 1965ء میں امریکی صدر جانسن اور اُن کی انتظامیہ کو یہ فکر لاحق ہوئی تھی کہ اگر امریکا ویتنام سے پیچھے ہٹا تو دنیا کمزور گوریلا حریف سے شکست پر اسے کاغذی شیر سمجھے گی۔
ویتنام میں شکست اور سائیگون سے امریکی فرار کی تصاویر نے امریکی غرور کو توڑ دیا، جس کے بعد عوام اور پارلیمان میں بیرون مملک بڑی فوجی مداخلت سے گریز کی پالیسی نے جنم لیا۔
ایران جیسے حریف جو حقیقت میں امریکی فوجی طاقت کو معتبر مانتے ہیں لیکن حملے کی صورت میں خوف سے جھکتے نہیں بلکہ اپنے دفاع کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔