کارڈیک اریسٹ اور ہارٹ اٹیک میں کیا فرق ہے؟

— فائل فوٹو 

لوگ عموماً یہ سمجھتے ہیں کہ کارڈیک اریسٹ اور ہارٹ اٹیک ایک ہی کیفیت کے دو نام ہیں جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔

کارڈیک اریسٹ اور ہارٹ اٹیک دو الگ الگ کیفیات ہیں، ہارٹ اٹیک شریانوں میں خون کا بہاؤ متاثر ہونے، خون گاڑھا ہونے یا شریانوں میں خون کے لوتھڑے بن جانے یا چربی کے جم جانے کی وجہ سے ہوتا ہے، ایسی صورتِ حال میں دل دھڑکنا مکمل طور پر بند نہیں ہوتا۔

دوسری جانب کارڈیک اریسٹ دل کے برقی نظام میں خرابی کے باعث ہوتا ہے اور اس صورت میں دل مؤثر انداز میں خون پمپ کرنا بند کر دیتا ہے یعنی اچانک دل دھڑکنا بند کر دیتا ہے۔

ہارٹ اٹیک کی علامات

طبی ماہرین کے مطابق ہارٹ اٹیک آنے سے قبل یہ علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں جیسے کہ سینے میں درد یا دباؤ کا محسوس ہونا، دل کی دھڑکن تیز یا بے ترتیب ہونا، سانس کا پھولنا یا سانس لینے میں دشواری، گردن میں درد، درد کا گردن سے نکل کر بازو یا جبڑے کی طرف جانا، ٹھنڈے پسینے آنا، انتہائی کمزوری کا محسوس ہونا، چکر آنا یا بے ہوش ہو جانا۔

کارڈیک اریسٹ کی علامات

ماہرین کا کہنا ہے کہ کارڈیک اریسٹ اکثر اچانک ہوتا ہے اور اس کیفیت کی کوئی قابلِ اعتماد علامت نہیں ہیں۔

کیا کارڈیک اریسٹ سے بچاؤ ممکن ہے؟

ماہرین کے مطابق کارڈیک اریسٹ کے بارے میں قبل از وقت پیش گوئی یا روک تھام ممکن نہیں، لیکن دل کی بیماریوں کے خطرات کم کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ 

ان اقدامات میں بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور بلڈ شوگر کی نگرانی، تمباکو نوشی سے اجتناب، مناسب جسمانی سرگرمی، متوازن غذا اور پہلے سے موجود بیماریوں کا علاج اہم ہیں۔

ماہرین کے مطابق سب سے اہم بات یہ ہے کہ نئی یا غیر معمولی علامات کو نظر انداز نہ کیا جائے اور اچانک بے ہوشی یا سانس بند ہونے کی صورت میں فوری طبی امداد اور سی پی آر دینے میں تاخیر نہ کی جائے۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔