کنزرویٹو پارٹی کا غیر قانونی امیگریشن کیخلاف سخت مؤقف کا اعلان

—فائل فوٹو

برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی نے غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اقتدار میں آنے کی صورت میں ہر سال ڈیڑھ لاکھ غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملک بدر کرنے کی کوشش کریں گے۔

پارٹی کے مطابق غیر قانونی امیگریشن کے باعث رہائش، سرحدی نظام، صحت، تعلیم اور دیگر سرکاری خدمات پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے ایسے افراد کی ملک بدری کے عمل کو تیز کرنا ضروری ہے جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر ملک بدری کے منصوبے پر عمل درآمد میں قانونی چارہ جوئی، انتظامی صلاحیت، بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق متعدد رکاوٹیں حائل ہو سکتی ہیں، جس کے باعث اس ہدف کا حصول آسان نہیں ہو گا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق امیگریشن پہلے ہی برطانوی سیاست کا ایک نہایت حساس موضوع بن چکا ہے اور کنزرویٹو پارٹی آئندہ عام انتخابات میں اسے اپنی انتخابی مہم کا ایک مرکزی مسئلہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔