مودی دور میں ہجوم کے ہاتھوں انسانی قتل معمول بن گیا: کتاب میں انکشاف

—فائل فوٹو 

بھارت میں نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے پہلے 2 ادوار میں ہجوم کے ہاتھوں تشدد دہشت گردی کی ایک منفرد شکل اور نیا معمول بن گیا ہے۔

بھارتی اسلامک اسکالر، مصنف، سینئر صحافی، انسانی حقوق کے کارکن اور مسلم رہنما ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کی نئی کتاب ’Mob Lynchings in India: A Record, 2014-2024‘ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت میں 10 سال کے دوران ہجوم کے ہاتھوں قتل کے 1743 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کے مطابق ہجوم کے تشدد کے زیادہ تر واقعات نفرت پر مبنی جرائم ہیں جن میں مسلمانوں، عیسائیوں اور دلتوں کو بڑی تعداد میں نشانہ بنایا گیا۔

متاثرین پر مذہبی تبدیلی، گائے ذبح کرنے، بچوں کے اغواء اور دیگر الزامات عائد کر کے تشدد کیا گیا۔

ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے پولیس اور بعض سیاسی عناصر کے کردار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ مجرموں کو بر وقت سزا نہ ملنے سے ایسے واقعات کی حوصلہ افزائی ہوئی۔

ان کا کہنا ہے کہ ہجوم کے ہاتھوں قتل کے واقعات اس لیے جاری ہیں کہ سیاست دانوں، عوام اور پولیس کے ایک بڑے طبقے نے اسے معمول اور قابلِ قبول عمل کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔