90 گھنٹے فاقہ کشی کرنیوالے بھارتی انفلوئینسر کے نتائج سے متعلق حیران کن انکشافات

—فوٹو بشکریہ بھارتی میڈیا

بھارتی انفلوئینسر ابھیشیک اگروال نے اپنی سالگرہ پر 90 گھنٹے تک کھانا نہ کھانے کا چیلنج مکمل کرتے ہوئے بتایا ہے کہ میرا مقصد اپنی بھوک برداشت کرنے کی صلاحیت اور قوتِ ارادی کو آزمانا تھا۔

فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر اپنی ایک پوسٹ میں تجربات بیان کرتے ہوئے ابھیشیک نے بتایا ہے کہ میرے لیے پہلے دن بھوکا رہنا آسان تھا، دوسرے دن مشکل بڑھ گئی، تیسرے دن مجھے اپنے جسم میں سکون کا احساس ہوا جبکہ چوتھے اور میری سالگرہ والے دن میرا ذہن کئی ماہ بعد سب سے زیادہ تیز اور واضح تھا، میرا جسم بھی کافی ہلکا محسوس ہو رہا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اس تجربے کے بعد میں خود کو زیادہ مضبوط محسوس کر رہا ہوں، اس تجربے نے مجھے احساس دلایا کہ انسان اپنی برداشت کی صلاحیت کے بارے میں اکثر غلط اندازے لگاتا ہے۔

90 گھنٹے بھوکا رہنے سے جسم میں کیا ہوتا ہے؟

طبی ماہرین کے مطابق طویل وقت تک کھانا نہ کھانے سے جسم میں توانائی حاصل کرنے کا طریقہ بدل جاتا ہے۔

ذخیرہ شدہ شکر کا استعمال: ابتداء میں جسم خون میں موجود شکر اور جگر و پٹھوں میں ذخیرہ شدہ توانائی استعمال کرتا ہے، وقت گزرنے کے ساتھ یہ ذخائر کم ہونے لگتے ہیں۔

چربی سے توانائی کا حصول: شکر کے ذخائر کم ہونے پر جسم چربی کو توانائی کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے جبکہ جگر ایسے مادے بناتا ہے جنہیں کیٹونز کہا جاتا ہے۔

انسولین میں کمی: کھانا نہ ملنے کی صورت میں انسولین کی سطح کم ہو جاتی ہے جس سے جسم کو ذخیرہ شدہ توانائی استعمال کرنے میں مدد ملتی ہے۔

پٹھوں پر اثرات: جسم چربی کے ساتھ کچھ پروٹین بھی استعمال کر سکتا ہے جس سے پٹھوں اور دیگر بافتوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

بھوک اور کمزوری: طویل فاقے سے تھکن، سر درد، چڑچڑاپن، متلی، قبض، نیند میں خرابی اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔

پانی اور نمکیات کی کمی: پانی پینے کے باوجود جسم میں پانی اور ضروری نمکیات کی کمی ہو سکتی ہے جو سنگین صورت میں دل، پٹھوں اور اعصابی نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔

کیا 90 گھنٹے کا فاقہ محفوظ ہے؟

طبی ماہرین کے مطابق طویل فاقہ ہر شخص کے لیے محفوظ نہیں اور اسے وزن کم کرنے یا صحت بہتر بنانے کا یقینی طریقہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق ذیابیطس یا دیگر بیماریوں میں مبتلا افراد، حاملہ خواتین اور بچوں کو دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے یہ عمل خطرناک ہو سکتا ہے۔ 

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تجربے کے لیے خون میں شکر یا فشارِ خون پر اثر انداز ہونے والی ادویات استعمال کرنے والوں کو بھی خصوصی احتیاط کی ضرورت ہے۔

طویل فاقہ کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے، کیونکہ کسی ایک شخص کا اچھا تجربہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ یہ طریقہ سب کے لیے محفوظ یا فائدہ مند ہے۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔