وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کردی، ریاستی ملکیتی اداروں کی ششماہی رپورٹ جاری کردی، جس کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران ایس او ایز کا منافع 7 فیصد کم رہا۔
دستاویز کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران ریاستی ملکیتی اداروں کے منافع میں 7 فیصد کمی ہوئی، ریاستی اداروں کا منافع 457.20 ارب روپے سے کم ہو کر 423.3 ارب روپے رہ گیا۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران ریاستی ملکیتی اداروں کے نقصانات معمولی کمی کے بعد 342.9 ارب روپے سے کم ہو کر 342.8 ارب روپے رہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق جولائی 2025 سے دسمبر 2025 تک ریاستی اداروں کے مجموعی منافع میں 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
دستاویز کے مطابق اس عرصے میں ریاستی اداروں کا منافع 114.3 ارب روپے سے کم ہو کر 80.5 ارب روپے رہ گیا، ریاستی ملکیتی اداروں کی ایکویٹی میں جولائی 2025 سے دسمبر 2025 تک 3 فیصد کم ہوئی، ایس او ایز کی ایکویٹی 6628.7 ارب سے کم ہو کر6407.2 ارب روپے رہی۔
ششماہی رپورٹ کے مطابق ایس او ایز کی ذمہ داریاں ایک فیصد کم ہوئیں، جولائی2025 سے دسمبر 2025 تک ایس او ایز کے اثاثوں میں 2 فیصد کمی ہوئی، جولائی2025 سے دسمبر 2025 تک ایس او ایز کے اثاثے37720.7 ارب روپے سے کم ہو کر 37107.3 ارب روپے ہوگئے۔