برطانیہ کے شہر شیفیلڈ میں ایک خاتون کو چھ ماہ کے دوران چھ مرتبہ زیادتی اور دو مرتبہ جنسی حملے کا نشانہ بنانے والے 28 سالہ فرمان علی نامی شخص کو 20 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔
عدالت میں پیش کیے گئے مقدمے کے مطابق ملزم نے 2024 اور 2025 کے دوران متاثرہ خاتون کو جنسی، جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس دوران دو خواتین، 60 سالہ زرینہ زرینہ اور 43 سالہ سعدیہ محمد بھی مبینہ طور پر اس کے جرائم میں معاونت کرتی رہیں۔
متاثرہ خاتون نے جنوری 2025 میں پولیس کو واقعے کی اطلاع دی، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو اگلے روز گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق مقدمے کی کارروائی کے دوران ملزم نے متاثرہ خاتون کو مقدمہ واپس لینے کے لیے دھمکانے کی کوشش کی اور اس کے اہلِ خانہ کو قتل کرنے کی دھمکی بھی دی، تاہم خاتون نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قانونی کارروائی جاری رکھی۔
تحقیقات کے دوران پولیس نے فرانزک شواہد، متاثرہ خاتون کے زخموں کی تصاویر، گواہوں کے بیانات اور سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت اہم شواہد اکٹھے کیے۔
فرمان علی نے اپنے خلاف الزامات سے انکار کیا، تاہم 14 مئی 2026 کو شیفیلڈ کراؤن کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے بعد جیوری نے اسے 11 الزامات میں مجرم قرار دیا، جن میں زیادتی کے چھ الزامات بھی شامل تھے۔ عدالت نے یکم اکتوبر کو اسے 20 سال قید کی سزا سنائی۔
دوسری جانب سعدیہ محمد اور زرینہ زرینہ نے 5 مئی کو اسی عدالت میں اپنے خلاف عائد الزامات کا اعتراف کیا۔ دونوں کو یکم اکتوبر کو تین سال اور دو ماہ قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ حملے کے الزام میں انہیں بری کر دیا گیا۔
قانون کے تحت جنسی جرائم کے متاثرین کو تاحیات شناختی تحفظ حاصل ہوتا ہے، لہٰذا متاثرہ خاتون کی شناخت ظاہر کرنا یا کسی بھی ذریعے سے اسے شناخت کے قابل بنانا جرم ہے۔