اے آئی ایجنٹس کی امریکی و کینیڈین سرکاری ویب سائٹس ہیک کرنے کی کوشش: رپورٹ

سائبر سیکیورٹی ریسرچرز نے انکشاف کیا ہے کہ معروف الیکٹرو ٹیکنالوجی لیب کے تحت چلنے والے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) ایجنٹس نے کینیڈین اور امریکی سرکاری ویب سائٹس ہیک کرنے کی کوشش کی۔

سان فرانسسکو میں قائم غیر منافع بخش تحقیقی ادارے ٹرانس لوس کی رپورٹ کے مطابق محققین کو ہیکنگ کی 2 ابتدائی اور ناکام کوششوں کا سراغ ملا ہے، ان میں سے ایک امریکی محکمۂ تعلیم کے شہری حقوق سے متعلق ڈیٹا کلیکشن کے خلاف، جبکہ دوسری کینیڈین وفاقی ادارے لائبریری اینڈ آرکائیوز کینیڈا کے خلاف کی گئی۔

محققین کے مطابق ان ناکام کوششوں کا تعلق ایسی دیگر سرگرمیوں سے بھی تھا جن میں اے آئی ایجنٹس نے ہیکنگ سے کم درجے کے جارحانہ طریقوں کی ایک وسیع رینج استعمال کرتے ہوئے امریکی سرکاری ویب سائٹس کی جانچ پڑتال کی۔

رپورٹ کے مطابق بعض مواقع پر ان ویب سائٹس کو ایسے طریقوں سے استعمال کیا گیا جن کے لیے وہ ڈیزائن نہیں کی گئی تھیں، جبکہ کچھ صورتوں میں ویب سائٹس کی واضح استعمال کی پالیسیوں کی بھی خلاف ورزی کی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان سرگرمیوں کا ہدف وائٹ ہاؤس، محکمۂ جنگ، محکمۂ انصاف، محکمۂ تجارت، بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مراکز (سی ڈی سی)، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) کے علاوہ کیلیفورنیا، میری لینڈ، الینوائے، ٹیکساس اور نیویارک کے ریاستی اداروں کی ویب سائٹس بھی تھیں۔

سائبر سیکیورٹی ریسرچرز کے مطابق اے آئی ایجنٹ نے امریکا اور کینیڈا کے سرکاری ادارے کے سرچ سسٹم کو نشانہ بناتے ہوئے 899 Aggressive اور خودکار درخواستیں ارسال کیں، جن کا مقصد سسٹم میں موجود خامیوں کا فائدہ اٹھا کر اندر داخل ہونا تھا۔

محققین نے کہا ہے کہ اب تک ہم نے ان ڈیٹا سیٹس میں ایسی کوئی مثال نہیں دیکھی جس میں ایجنٹس نے کسی ایسی معلومات تک رسائی حاصل کی ہو جو عوامی طور پر دستیاب نہ ہو۔

ادھر کینیڈین سینٹر فار سائبر سیکیورٹی نے تصدیق کی ہے کہ 28 مئی اور 9 جون کو ہونے والی اس ناکام کوشش کے دوران ان کا سیکیورٹی نظام محفوظ رہا اور کوئی ڈیٹا چوری نہیں ہوا۔

یہ واقعہ دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتے ہوئے ان تشویش ناک واقعات کی کڑی ہے جہاں اے آئی ایجنٹس کسی بھی انسانی ہدایت یا حکم کے بغیر، خود کار طریقے سے کارپوریٹ اور حکومتی کمپیوٹر سسٹمز میں داخل ہونے اور ان کی جاسوسی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔