سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو درپیش ہر خطرے یا حملے کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ ریاض علاقائی کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل میں تعاون جاری رکھے گا اور یقین ظاہر کیا ہے کہ مکہ دفاعی اتحاد خطے کی سیکیورٹی اور استحکام مضبوط بنانے میں معاون ہوگا۔
العربیہ کے مطابق ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے یہ بات شوری کونسل سے سالانہ خطاب میں کہی۔
یمن کی صورتحال پر شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ حوثیوں نے افراتفری، تباہی اور خطے کو دھمکانے کاانتخاب کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب عالمی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی پورے ملک پر اتھارٹی قائم کرنے میں جامع مدد جاری رکھے گا۔
ولی عہد نے خبردار کیا کہ سعودی عرب کی سیکیورٹی کو نیچا دکھانے کی کسی بھی کوشش کا فیصلہ کن جواب دینے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا۔
محمد بن سلمان نے واضح کیا کہ سعودی عرب اپنی سیکیورٹی پر سمجھوتہ کیے بغیر ہر ممکن کوشش کررہا ہے کہ تناؤ ختم کیا جائے اور سفارتی حل میں مدد دی جائے۔
ولی عہد شہزادے نے خطرات سے نمٹنے پر سعودی مسلح افواج کی ستائش کی اور کہا کہ سعودی عرب کی افواج اور انسانی وسائل کسی بھی زریعہ سے آنیوالے خطرات کا مقابلہ کرنے کی اعلیٰ صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک پر حالیہ حملوں نے واضح کیا ہے کہ خلیج کی سیکیورٹی ناقابل تقسیم ہے۔
محمد بن سلمان نے خلیجی ریاستوں کے ساتھ اسٹریٹیجک تعاون اور اقتصادی انضمام پر بھی زور دیا۔
شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ دنیا کو توانائی بحران کا سامنا ہے، انہوں نے بین الاقوامی پانیوں کو سیاسی یا اقتصادی دباؤ کے طور پر استعمال کیے جانے کو مسترد کیا اور کہا کہ علاقائی کشیدگی کے باوجود سعودی عرب نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی فراہمی جاری رکھنے کی صلاحیت کا اظہار کیا ہے۔