بالی ووڈ کے ایکشن ہیرو اجے دیوگن نے بھارتی فلم انڈسٹری کے موجودہ حالات، فلم سازی کے درپیش چیلنجز اور باکس آفس کی بدلتی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندی فلمیں بنانا کافی مشکل کام ہے۔
ستاون سالہ سینئر اداکار کے مطابق بھارت میں ہر 80 سے 90 کلومیٹر کے بعد زبان، ثقافت اور سوچ کا انداز بدل جاتا ہے۔ علاقائی فلموں کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ہدف کون سا علاقہ ہے لیکن ہندی فلموں کو دیہات سے لے کر شہری اور میٹرو علاقوں کے تمام ناظرین کو ایک ساتھ متوجہ کرنا ہوتا ہے جو کہ ایک انتہائی دشوار کام ہے۔
اجے دیوگن کے مطابق آج کے دور میں او ٹی ٹی اور دیگر ذرائع کی وجہ سے ناظرین کے پاس بےشمار آپشنز موجود ہیں۔ اب لوگ صرف کسی بڑے اسٹار کے نام پر پردہ سیمیں کا رخ نہیں کرتے بلکہ صرف وہی فلمیں پسند کی جاتی ہیں جن کی کہانی اور مواد معیاری ہو۔
کمپنی (2002)، گنگا جل (2003)، اپھارن (2005) اور ونس اپون اے ٹائم ان ممبئی (2010) جیسی ہٹ فلموں میں مرکزی کردار ادا کرنے والے اجے نے واضح کیا کہ ماضی میں ناظرین کے پاس کم آپشنز ہونے کی وجہ سے اوسط فلمیں بھی چل جاتی تھیں لیکن آج اگر فلم اچھی نہ ہو تو دوسرے ہی دن باکس آفس پر بیٹھ جاتی ہے۔ اب کمائی صرف اور صرف معیاری مواد کے ہی پیچھے آتی ہے۔