مسلم دنیا کو ایسے ادارے بنانے ہوں گے جو ٹیکنالوجی تخلیق کرسکیں، بلال بن ثاقب

بلال بن ثاقب۔ فوٹو: فائل

پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین اور پاکستان کرپٹو کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ  مسلم دنیا کو ایسے ادارے بنانے ہوں گے جو ٹیکنالوجی تخلیق کرسکیں۔ 

انھوں نے ان خیالات کا اظہار ہارورڈ اسلامک فنانس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔

بلال بن ثاقب نے بلاک چین اور مسلم دنیا کے مستقبل پر گفتگو میں کہا کہ ماضی کا احترام صرف یاد کرکے نہیں نئی چیزیں تخلیق کرکے کرتے ہیں۔ سنہری دور علم پیدا کرنے، صلاحیتیں بنانے اور انسانی مسائل حل کرنے کا نام ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کا فائدہ اسی وقت ہے جب وہ مالی خدمات کو عوام کیلئے سستا، آسان اور قابل اعتماد بنائیں۔ ٹیکنالوجی کیساتھ مالیاتی نظام میں ذمہ داری، نگرانی اور عوامی تحفظ یقینی بنانا ضروری ہے، پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کو لائسنس جاری کرنے اور نگرانی کیلئے قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ نئی مالیاتی ٹیکنالوجی کی آزمائش، عدم اعتراض سرٹیفکیٹ اور باقاعدہ لائسنس کیلئے طریقہ کار متعارف کرایا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک کے درمیان عملی تعاون کی ضرورت ہے، مشترکہ تحقیق، مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل ٹیموں اور نگرانی کے تحت نئی مالیاتی ٹیکنالوجی کی آزمائش اہم ہے۔ 

بلال بن ثاقب نے کہا کہ مشترکہ ماضی ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتا ہے لیکن مشترکہ کام ہمیں سمت دیتا ہے، اتحاد صرف تقریروں تک محدود نہ ہو، نوجوانوں کو محقق اور عملی کام بھی سکھائے۔