آواز کے ذریعے ٹائپ 2 ذیابیطس کی فوری تشخیص، انقلابی طریقہ دریافت

علامتی فوٹو

طبی سائنسدانوں نے ذیابیطس ٹائپ 2 کی تشخیص کے حوالے سے ایک انقلابی اور انتہائی آسان طریقہ کار دریافت کر لیا ہے جس کے تحت اب بغیر خون لیے صرف مریض کی آواز سن کر بیماری کا پتہ لگایا جا سکے گا۔

سائنسدانوں کے مطابق ذیابیطس کی وجہ سے انسان کی آواز کے تعدد، لچک اور آواز کے دھاگوں میں باریک تبدیلیاں آتی ہیں جنہیں انسان کان سے نہیں سن سکتا لیکن اے آئی کا نظام اسے فوراً پکڑ لیتا ہے۔

مریض کو اپنے اسمارٹ فون پر صرف 6 سے 10 سیکنڈز کا جملہ بولنا ہوتا ہے، جس کے بعد اے آئی ماڈل آواز کے نمونے کا تجزیہ کر کے بتاتا ہے کہ فرد ذیابیطس کا شکار ہے یا نہیں اور یہ ٹیسٹ تقریباً 89 فیصد تک درست نتائج دیتا ہے۔

ذیابیطس کے لاکھوں مریضوں کے لیے یہ ٹیکنالوجی انتہائی کارآمد ثابت ہوگی کیونکہ اس سے ناصرف وقت اور پیسے کی بچت ہوگی بلکہ بغیر کسی درد کے گھر بیٹھے تشخیص ممکن ہو سکے گی۔

دنیا بھر میں کروڑوں افراد اس بیماری سے بےخبر رہتے ہیں، یہ ٹیسٹ اس خاموش بیماری کو ابتدائی مراحل میں ہی پکڑنے میں انتہائی معاون ثابت ہوگا۔


نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔