ہر آٹھ میں سے ایک کینسر کا سبب انفیکشن، ویکسین سے قابو پانا ممکن ہو سکتا ہے، تحقیق

ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں ہونے والے ہر آٹھ میں سے ایک کینسر کا سبب انفیکشن ہو سکتا ہے اور ان میں سے بہت سے انفیکشنز پر ویکسینیشن کے ذریعے قابو پایا جا سکتا ہے۔

انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر کے سائنسدانوں کے مطابق 2024 میں کینسر کے سامنے آنے والے 1 کروڑ 92 لاکھ نئے کیسز میں سے تقریباً 23 لاکھ کیسز انفیکشنز سے منسلک تھے۔ ان کینسر کیسز کی اکثریت صرف پانچ اقسام کے انفیکشنز سے وابستہ تھی۔

ان میں ہیلیکوبیکٹر پائلوری شامل ہے، جو ایک عام بیکٹیریا ہے اور معدے کو متاثر کرتا ہے۔ یہ اکثر آلودہ خوراک اور پانی کے ذریعے پھیلتا ہے۔ دیگر میں ہیومن پیپیلوما وائرس، ہیپاٹائٹس بی اور سی اور ایپسٹین بار وائرس شامل ہیں، جو خاص طور پر غدود کے بخار کا سبب بننے کے لیے مشہور ہے۔

کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کو انفیکشن سے متعلق کینسر کا سب سے زیادہ بوجھ برداشت کرنا پڑا، جہاں دنیا بھر کے ایسے کیسز میں سے تقریباً 77 فیصد رپورٹ ہوئے۔

مشرقی ایشیا میں انفیکشنز سے منسلک کینسر کے کیسز کی تعداد سب سے زیادہ، تقریباً 9 لاکھ رہی، جو دنیا بھر کے کل کیسز کا 42 فیصد بنتی ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں ایچ پائلوری اور ہیپاٹائٹس بی شامل ہیں۔

طبی جریدے جرنل دی لینسیٹ آنکولوجی میں شائع شدہ اس تحقیق میں محققین نے کہا کہ یہ نتائج کینسر کی شرح کم کرنے کے لیے انفیکشنز کی روک تھام اور مؤثر کنٹرول کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ اگرچہ نئی حفاظتی ویکسینز کی تیاری میں سرمایہ کاری اہم ہے، لیکن کینسر سے بچاؤ کی بہت سی حکمت عملیاں پہلے ہی معلوم ہیں اور کم لاگت میں موثر ثابت ہو سکتی ہیں۔

محققین کے مطابق ان حکمت عملیوں پر اکثر مناسب طور پر عمل نہیں کیا جاتا۔انھوں نے کہا ایچ پی وی ویکسین کے استعمال میں اضافہ، محفوظ انجیکشن کے طریقوں کو فروغ دینا، مانع حمل اشیا اور ایچ آئی وی سے بچاؤ کی ادویات تک رسائی بہتر بنانا اور سروائیکل (بچہ دانی کے منہ) اور مقعد کے کینسر کی ابتدائی علامات کی بروقت تشخیص اور علاج شامل ہیں۔

مغربی یورپ میں 2024 کے دوران ایچ پی وی سے منسلک کینسر کے تقریباً 24,000 کیسز سامنے آئے، جس کے باعث یہ خطے میں انفیکشن سے منسلک کینسر کی سب سے بڑی وجہ تھی۔

ایچ پی وی کی تقریباً 14 ایسی اقسام ہیں جنہیں ہائی رسک سمجھا جاتا ہے۔ یہ اقسام کینسر کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ خلیوں کے ڈی این اے میں تبدیلی پیدا کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں خلیے بے قابو ہو کر بڑھنے لگتے ہیں اور کینسر کا سبب بن سکتے ہیں۔

تقریباً تمام سروائیکل کینسر کے کیسز ایچ پی وی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایچ پی وی کا تعلق گلے، منہ، مقعد، بیرونی خواتین کے جنسی اعضا (vulva) اور اندام نہانی کے کینسر سے بھی ہے۔ اسی وجہ سے ایچ پی وی ویکسینیشن اور سروائیکل اسکریننگ، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی سروائیکل کینسر کے خاتمے کی حکمت عملی کا بنیادی حصہ ہے۔ 

ایچ پی وی ویکسین جو عام طور پر 12 سے 13 سال کی عمر کے بچوں کو دی جاتی ہے اس سے متعلق کینسر ہونے کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے۔ یہ ویکسین ان افراد کے لیے بھی دستیاب ہے جو اسکول میں یہ ویکسین لگوانے سے رہ گئے ہوں۔

تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا کہ ایچ پائلوری 2024 میں دنیا بھر میں انفیکشن سے متعلق کینسر کی سب سے بڑی وجہ تھا اور اس کی وجہ سے تقریباً 7 لاکھ 60 ہزار کینسر کے کیسز سامنے آئے جن میں سے زیادہ تر معدے کے کینسر کے تھے۔ تحقیق کے مطابق جن لوگوں میں اس بیکٹیریا سے سابقہ پڑ چکا ہو، ان میں کولوریکٹل کینسر (بڑی آنت اور مقعد کے کینسر) کا خطرہ تقریباً 60 فیصد زیادہ ہو سکتا ہے۔

محققین کے مطابق ایچ پائلوری کے خلاف ویکسین تیار کرنے میں ابھی تک پیش رفت سست ہے، حالانکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی ویکسین کی تیاری دنیا بھر میں معدے کے کینسر کی شرح کم کرنے میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے۔