23 سالہ لڑکی کی خودکشی، سسرالیوں پر جہیز کیلئے ہراسانی کا الزام

—فوٹو بشکریہ بھارتی میڈیا 

بھارتی شہر پونا میں 23 سالہ آئی ٹی انجینئر نے شادی کے چند ماہ بعد مبینہ طور پر خودکشی کر لی، لڑکی کے اہلِ خانہ نے شوہر اور سسرالیوں پر جہیز کے لیے ذہنی و جسمانی تشدد کا الزام عائد کیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق خودکشی کرنے والی خاتون کی شناخت ویشنوی پروین جاراندے کے نام سے ہوئی ہے جس کی شادی رواں ماہ 9 مئی کو اومکار سنجے گھیسارے سے ہوئی تھی۔

ویشنوی کے اہلِ خانہ کے مطابق بیٹی کی شادی پر تقریباً 45 لاکھ روپے خرچ کیے گئے تھے اور 10 تولہ سونا دیا گیا تھا، اس کے باوجود شوہر اور سسرالیوں نے گاڑی خریدنے کے لیے مزید 5 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا تھا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق شادی کے بعد ویشنو ی سسرال میں رہی، بعد ازاں ملازمت کے سلسلے میں 1 ماہ بعد بنگلورو منتقل ہو گئی، جون کے آخر میں پونا واپسی کے بعد اس نے سسرال میں ہی رہتے ہوئے ایک آئی ٹی کمپنی میں ملازمت اختیار کر لی تھی۔

اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ بیٹی کا شوہر، ساس اور سسر اسے ذہنی اور جسمانی طور پر ہراساں کرتے تھے، 24 ستمبر کی رات ویشنوی نے اپنی والدہ کو فون کر کے سسرال والوں کی مبینہ ہراسانی سے آگاہ کیا اور تشدد سے متعلق انکشاف کیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق رات ساڑھے 11 بجے ویشنوی کے شوہر نے بھی بیوی کے میکے والوں سے فون پر رابطہ کیا جس کے بعد ویشنو ی سے رابطہ نہ ہو سکا، ویشنوی کے والدین پونا پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ ان کی بیٹی اچانک چل بسی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ویشنوی کے والد کی شکایت پر پولیس نے شوہر اومکار سنجے گھیسارے اور اس کے والدین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

پولیس جہیز کی روک تھام کے قانون اور خودکشی پر اکسانے سے متعلق دفعات کے تحت تحقیقات کر رہی ہے۔ 

پولیس کے مطابق واقعے کی اصل وجوہات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد واضح ہوں گی۔