فلپائن میں ایک غیر معمولی اور عجیب کیس سامنے آیا ہے جس میں ایک خاتون کے دماغ میں طفیلی کیڑوں اور ان کے انڈوں کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔
طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والی کیس رپورٹ کے مطابق چاول کی کاشت کرنے والی خاتون کو اچانک مرگی کا دورہ پڑا جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً ایک منٹ تک جاری رہنے والے مرگی کے اس دورے سے قبل خاتون کو نہ سر میں درد تھا، نہ ذہنی الجھن اور نہ ہی جسمانی کمزوری کی کوئی شکایت تھی۔
اسپتال میں ابتدائی طبی معائنے کے دوران کوئی غیر معمولی بات سامنے نہیں آئی، تاہم دماغ کے ایم آر آئی اسکین نے ڈاکٹرز کو حیران کر دیا۔
اسکین میں دماغ کے بائیں حصے میں سیال سے گھری ہوئی متعدد چھوٹی گلٹیاں دکھائی دیں، جس پر ڈاکٹرز کو شبہ ہوا کہ یہ طفیلی کیڑے یا ان کے انڈے ہو سکتے ہیں یعنی خاتون نیورو شسٹوسومیاسس نامی بیماری میں مبتلا ہو سکتی ہیں۔
یہ بیماری شسٹوسوما نامی طفیلی کیڑے کے انفیکشن کے نتیجے میں ہونے والی ایک غیر معمولی پیچیدگی ہے۔
فلپائن میں اس کی ایک قسم شسٹوسوما جاپانیکم (Schistosoma japonicum) پائی جاتی ہے جو چین اور انڈونیشیا کے بعض علاقوں میں بھی موجود ہے۔
یہ طفیلی کیڑا عام طور پر آلودہ میٹھے پانی میں موجود ہوتا ہے، اس کے انڈے پانی میں تیرتے ہیں اور انسانی جلد میں داخل ہو کر خون کی نالیوں کے ذریعے جسم کے مختلف اعضاء تک پہنچ سکتے ہیں۔

بالغ کیڑے عموماً پیٹ کی بڑی خون کی نالیوں میں رہتے ہیں اور ان کے انڈے پیشاب یا فضلے کے ذریعے جسم سے خارج ہوتے ہیں۔
تاہم بعض غیر معمولی حالات میں یہ کیڑے اور ان کے انڈے دماغ تک پہنچ جاتے ہیں جہاں وہ سوزش، دوروں اور دیگر اعصابی مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔
اسی لیے ایک پرانا مگر مخصوص لیبارٹری ٹیسٹ استعمال کیا گیا جسے سرکم اوول پریسیپیٹن ٹیسٹ کہا جاتا ہے۔
اس ٹیسٹ میں طفیلی کیڑے کے انڈوں کے نمونے کو مریض کے خون سے حاصل کیے گئے سیرم کے ساتھ ملایا جاتا ہے، اگر مریض کے جسم میں اس کیڑے کے خلاف مخصوص اینٹی باڈیز موجود ہوں تو وہ انڈوں کی سطح سے منسلک ہو کر دم جیسی ساخت بنا دیتی ہیں، خاتون کے ٹیسٹ میں بھی یہی نتیجہ سامنے آیا۔
ان نتائج اور دماغ کے ایم آر آئی اسکین کی بنیاد پر ڈاکٹرز نے تصدیق کی کہ خاتون کو نیورو شسٹوسومیاسس نامی بیماری میں مبتلا ہونے کی وجہ سے دورہ پڑا تھا۔
مرض کی تشخیص کے بعد ڈاکٹرز نے خاتون کو طفیلی کیڑوں کے خلاف دوا، سوزش کم کرنے والی دوا اور دوروں کو روکنے کی ادویات تجویز کیں۔
علاج کے 3 ماہ بعد خاتون نے بتایا کہ مجھے دوبارہ کوئی دورہ نہیں پڑا اور میرے دماغ کے نئے ایم آر آئی اسکین میں بھی کیڑے کے انڈوں کی موجودگی کے آثار ختم ہو گئے۔