سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ علاقائی کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔
نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر پر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا کہ سعودی عرب سمیت خطے کے ممالک ایرانی حملوں کا شکار ہوئے، خطۂ خلیج کا امن، توانائی اور سپلائی چین کے تسلسل کی سلامتی سے منسلک ہے۔
شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ آبی گزر گاہوں کو بلیک میلنگ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کو مسترد کرتے ہیں۔ بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ پر زور دیتے ہیں، بین الاقوامی جہاز رانی کا تحفظ دنیا کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کو بے گھر اور جلاوطن کرنے کی تمام سازشوں کو مسترد کرتے ہیں۔ فلسطینیوں کی مسلسل مشکلات اور امداد میں رکاوٹیں کھڑی کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ بالادستی اور اثر و رسوخ مسلط کرنے کی پالیسیوں کو مسترد کرتے ہیں، یمن میں استحکام اور شہریوں کے تحفظ کی ضرورت ہے۔
شہزادہ فیصل بن فرحان نے حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حوثیوں کے حملے ملکی اور علاقائی سالمیت کے لیے خطرہ ہیں، عراقی حکومت کا ہتھیاروں کو سرکاری تحویل میں لینے کی کاوشوں کو سراہتے ہیں۔
سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب نے علاقائی اور بین الاقوامی تجارت کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، سمندری جہاز رانی پر کسی قسم کے ٹیکس عائد کرنے کو مسترد کرتے ہیں۔