رش اور کوریڈور میں دوران علاج ہر ہفتے 550 مریضوں کی ہلاکت کا انکشاف

تصویر سوشل میڈیا۔

اے اینڈ ای میں مریضوں کی بھیڑ بھاڑ اور کوریڈور میں دیکھ بھال کے دوران ہر ہفتے تقریباً ساڑھے پانچ سو مریضوں کی ہلاکت کا ہولناک انکشاف ہوا ہے۔

برطانوی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق اعداد و شمار پر مشتمل ایک معلوماتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ حالیہ ہلاکتوں کی شرح ہر ہفتے ایک بڑے جمبو جیٹ طیارہ حادثے کے نتائج کے برابر ہے۔

این ایچ ایس اسپتال میں 19 ہزار سے زائد مریضوں پر ہونے والے ایک جائزہ میں انکشاف ہوا ہے کہ ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ میں شرح اموات زیادہ بڑھی ہے۔ 

یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اے اینڈ ای کی اوسط شرح سے تقریباً دو گنا زائد مریض تھے جس کیلئے سینٹرز ڈیزائن نہیں کیے گئے تھے۔

رائل کالج آف نرسنگ نے پہلے ہی خبردار کیا ہے کہ اے اینڈ ای بیڈز کی کمی کا مطلب ہے کہ مریضوں کو اکثر راہداریوں میں ٹرالیوں پر آکسیجن اور دیگر ہنگامی آلات تک مناسب رسائی کے بغیر چھوڑ دیا جائے۔

عملہ اس معاملے پر تناؤ کا شکار ہوتا ہے اسکاٹ لینڈ کے مغرب میں ایمرجنسی میڈیسن کے ڈاکٹر اور گلاسگو یونیورسٹی کے محقق ڈاکٹر ریان میک ہینری نے دو ہفتے کے عرصے میں انگلینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں تقریباً 70 فیصداے اینڈ ایز ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔

انہوں نے دورا ن تحقیق پایا کہ ایمرجنسی ڈپارٹمنٹس میں زیادہ ہجوم کا تعلق اسپتال میں داخل مریضوں کی اموات میں اضافے سے ہے۔