زیادہ نمک والی غذائیں مردوں کی یادداشت کو مستقل طور پر نقصان پہنچا سکتی ہے، تحقیق

ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ زیادہ نمک والی غذائیں مردوں کی یادداشت کو مستقل طور پر نقصان پہنچا سکتی ہے۔

اس حوالے سے کی گئی ایک تحقیق کے مطابق جو افراد زیادہ مقدار میں سوڈیم (نمک) استعمال کرتے تھے، ان کی یادداشت میں چھ سال کے عرصے کے دوران کمی دیکھی گئی، خاص طور پر انھیں ماضی کے واقعات یاد کرنے میں دشواری پیش آئی، تاہم خواتین میں ایسا اثر نہیں پایا گیا۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ 60 سال سے زائد عمر کے 1,200 افراد کے تجزیے پر مبنی یہ نتائج ڈیمنشیا (دماغی کمزوری اور بھولنے کی بیماری) کے آغاز میں تاخیر کے لیے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

یہ تحقیق طبی جریدے نیورو بیالوجی آف ایجنگ میں شائع ہوئی ہے۔ اس تحقیق سے پتہ چلا کہ جن افراد میں الزائمر کی بیماری کا جینیاتی خطرہ زیادہ تھا، ان میں نمک کی زیادہ مقدار والی غذا نے ممکنہ تشخیص کی عمر کو کم کر دیا۔

برطانوی محکمہ صحت (این ایچ ایس) نے تجویز یا سفارش کی ہے کہ بالغ افراد کو روزانہ 6 گرام سے زیادہ نمک استعمال نہیں کرنا چاہیے، جو تقریباً ایک چائے کے چمچ کے برابر ہے۔ 

اس تحقیقی ٹیم کی مرکزی مصنفہ اور آسٹریلیا کی ایڈتھ کووان یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی محقق ڈاکٹر سمانتھا گارڈنر نے کہا کہ ہماری تحقیق میں زیادہ مقدار میں سوڈیم کے استعمال اور دماغی افعال کے درمیان تعلق کے ابتدائی شواہد سامنے آئے ہیں، تاہم اس تعلق کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

دنیا بھر میں لاکھوں افراد ڈیمنشیا (نسیان یا دماغی کمزوری اور یاداشت کھونا) کے مرض میں مبتلا ہیں اور خدشہ ہے کہ 2040 تک یہ تعداد کروڑوں ہو جائے گی۔