مائیکرو سافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کو مؤثر نگرانی اور مناسب ضوابط کے بغیر آگے بڑھنے دیا گیا تو یہ انسانیت کے لیے انتہائی سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ اقتباسات کے مطابق بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
جاری کردہ ایک یادداشت میں انہوں نے مصنوعی ذہانت کو مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی اہم ٹیکنالوجی قرار دیا۔
بل گیٹس کے مطابق مصنوعی ذہانت اتنی طاقت ور ہے کہ اس کے ذریعے ایسے واقعات جنم لے سکتے ہیں جن میں 1 ارب افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔
بل گیٹس کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت دنیا میں سب سے بڑی مساوات پیدا کرنے والی طاقت بھی بن سکتی ہے اور بدترین ناانصافی کا ذریعہ بھی۔
انہوں نے حکومت اور سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے حفاظتی حدود اور مؤثر ضوابط طے کرنے کے لیے فوری طور پر مل کر کام کریں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک کے سربراہ داریو اموڈے نے بھی کہا تھا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
انہوں نے ایسے واقعات کا حوالہ دیا تھا جن میں مصنوعی ذہانت کے نظام نے غیر متعلقہ اہداف کے خلاف اجازت کے بغیر سائبر کارروائیاں کیں اور اپنی کارکردگی جانچنے والے نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔