ٹرمپ سے پہلے برازیلی صدر نے خطاب کیوں کیا؟

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے کل سب سے پہلے برازیل کے صدر نے خطاب کیا، پھر امریکی صدر ٹرمپ نے خطاب کیا۔ سوال یہ ہے کہ دونوں رہنماؤں کا چناؤ کیسے کیا گیا؟ کیوں کہ دونوں رہنماؤں کے خطاب میں نہ تو حروف تہجی کا خیال رکھا گیا نہ ہی جغرافیائی یا سیاسی طاقت کے کسی معیار کا؟

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کی ترجیحات کا نظام انتہائی پیچیدہ ہے۔ اقوام متحدہ کے آفس کے مطابق برازیل 1955 سے صرف اس لیے پہلا خطاب کرتا چلا آرہا ہے کہ شروعاتی دور میں کوئی ملک سب سے پہلے بات کرنے کا خواہشمند نہیں ہوتا تھا۔ ایسے میں ہمیشہ برازیل نے رضاکارانہ طور پر پہلے خطاب کی ذمے داری اپنے سر لے لی۔

اس کے بعد چوں کہ امریکا میزبان ملک ہے اس لیے دوسرے نمبر پر ہمیشہ ہی امریکی صدر کا خطاب ہوتا چلا آیا ہے۔ یہاں تک تو ٹھیک ہے، لیکن اس کے بعد معاملہ اور زیادہ پیچیدہ ہوجاتا ہے۔ 

مقررین کی ترتیب کا تعین کرنے میں کئی عوامل شامل ہوجاتے ہیں، یہ دیکھا جاتا ہے کہ کوئی ملک کس نمائندے کو بھیج رہا ہے؟ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ انہوں نے خطاب کے لیے کس تاریخ کو درخواست دی تھی۔ پھر اس کے بعد یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ مقررین کی تقریروں کے درمیان جغرافیائی توازن کیسے برقرار رکھا جائے؟

یہ بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ اصل ترتیب متعین کرتے ہوئے سب سے پہلے سربراہانِ مملکت خطاب کریں، اس کے بعد سربراہانِ حکومت کا خطاب اور پھر نائب صدور کا نمبر آتا ہے۔ جبکہ ولی عہد، وزرائے خارجہ اور دیگر نائب وزرا کی باری اس کے بعد آتی ہے۔