کراچی کے علاقے احسن آباد میں فلیٹ سے ڈاکٹر عمر، ان کی اہلیہ اور تین بیٹیوں کی لاشیں ملنے کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، تحقیقاتی حکام نے ڈاکٹر عمر کا کال ڈیٹا ریکارڈ حاصل کرلیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عمر کے موبائل فون پر 14 ستمبر کو دوپہر ایک بجے آخری کال موصول ہوئی تھی۔ ٹیکنیکل ٹیم کال ڈیٹا ریکارڈ کا مزید جائزہ لے رہی ہے، جبکہ واقعے کی مختلف زاویوں سے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق ڈاکٹر عمر نے اسپتال انتظامیہ کو بتایا تھا کہ وہ علاج کے لیے پنجاب جا رہے ہیں۔ تفتیشی ٹیم نے فلیٹ کے مالک اور دیگر مکینوں کے بیانات بھی ریکارڈ کرلیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عمر 14ہزار روپے ماہانہ کرائے پر فلیٹ میں رہائش پذیر تھے اور ستمبر کا کرایہ بھی ادا نہیں کیا تھا، ڈاکٹر عمر نے مالک مکان کو بتایا تھا کہ ان کی تنخواہ اور موبائل فون ڈاکوؤں نے چھین لیے ہیں، تاہم اس مبینہ واردات کی کوئی رپورٹ پولیس کو درج نہیں کروائی گئی۔
مختلف بیانات سے پتا چلا کہ ڈاکٹر عمر نے گھر کی مختلف اشیاء فروخت کرنے کی کوشش بھی کی، تاہم مکینوں نے اشیاء خریدنے کے بجائے ڈاکٹر عمر کی مالی مدد کی، ان کے پاس نہ گاڑی تھی اور نہ موٹر سائیکل۔
ڈاکٹر عمر، ان کی اہلیہ اور تین بیٹیوں کی لاشیں 20 ستمبر کو فلیٹ سے ملی تھیں، جبکہ جائے وقوع سے ڈاکٹر عمر اور ان کی اہلیہ کے موبائل فون بھی نہیں ملے۔
وہ احسن آباد کے ایک نجی اسپتال میں ملازمت کرتے تھے، مگر گردوں میں کینسر کی تشخیص کے بعد انہوں نے اگست میں ملازمت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔