امریکا میں ایرانی صدر کو امریکی سیکریٹ سروس کی اسپیشل سیکیورٹی فراہم کردی گئی

فوٹو: رائٹرز 

امریکا میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو امریکی سیکریٹ سروس کی اسپیشل سیکیورٹی فراہم کردی گئی۔

مسعود پزشکیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے امریکی شہر نیو یارک میں ہیں۔ صدر پزشکیان کے علاوہ نیو یارک میں موجود دیگر ایرانی حکام کی سیکیورٹی محکمہ خارجہ کی ’ڈپلومیٹک سیکیورٹی سروس‘ کر رہی ہے۔ 

امریکی میڈیا کے مطابق پزشکیان اور ایرانی وفد کے دیگر ارکان کی سیکیورٹی پر مامور فیڈرل سیکیورٹی اداروں کو نیو یارک پولیس ڈپارٹمنٹ کے انٹیلی جنس بیورو کے ارکان، انویسٹی گیٹرز اور ہائی وے پیٹرول کے دستوں کی معاونت بھی حاصل ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں جنگ کے آغاز پر جنوبی ایران کے ایک پرائمری اسکول پر ہونے والے حملے میں درجنوں بچوں کی شہادت کا معاملہ اُجاگر کریں گے۔

خیال رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے آغاز پر جنوبی ایران کے شہر میناب میں شجرہ طیبہ اسکول کو امریکی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ 

ایرانی حکام کے مطابق حملے میں کم از کم 156 افراد شہید ہوئے، جن میں 120 بچے اور 26 اساتذہ شامل تھے۔

مارچ میں امریکی حکام کی جاری داخلی تحقیقات سے باخبر دو ذرائع نے سی این این کو بتایا تھا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے حملے کے لیے اہداف کے کوآرڈینیٹس ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کی فراہم کردہ پرانی معلومات کی بنیاد پر تیار کیے تھے، جس کے باعث یہ غلطی ہوئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا میں دعویٰ کیا تھا کہ حملے کی ذمہ داری ایران پر بھی عائد ہو سکتی ہے۔ تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کی اپنی انتظامیہ کا کوئی عہدیدار اس دعوے کی کھلے عام حمایت کیوں نہیں کر رہا تو ٹرمپ نے جواب دیا، ’’کیونکہ مجھے اس بارے میں کافی معلومات ہی نہیں ہیں۔‘‘

پینٹاگون کی داخلی تحقیقات تاحال تعطل کا شکار ہیں۔ سی این این کے مطابق معاملے سے واقف تین ذرائع نے بتایا کہ ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے تجزیہ کاروں کی جانب سے سیٹلائٹ تصاویر اور دیگر انٹیلی جنس ذرائع کا جائزہ لینے کا مرحلہ ابھی تک پینٹاگون کی جانب سے شروع نہیں کیا گیا۔

رواں ماہ اقوام متحدہ کے حقائق جانچنے والے مشن نے اپنی نئی رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا کہ مذکورہ حملہ ممکنہ طور پر جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی مشن کی یہ رپورٹ ابھی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پیش کی جانی ہے، تاہم مستقبل میں اسے بین الاقوامی فوجداری عدالت سمیت دیگر عالمی عدالتوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔