برین فوگ اور مسلسل تھکن کی اہم وجوہات سامنے آ گئیں

—فائل فوٹو 

نئی سائنسی تحقیقات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دماغی دھند اور مسلسل تھکن کی ایک ہی وجہ نہیں بلکہ جسم میں کئی حیاتیاتی تبدیلیاں اس کا سبب بن سکتی ہیں۔

دی نیوز انٹرنیشنل کے مطابق تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ طویل عرصے تک رہنے والی سوزش دماغی دھند کی اہم وجوہات میں شامل ہے، مسلسل ذہنی دباؤ، خودکار مدافعتی بیماریوں یا کسی وائرس کے بعد مدافعتی نظام کی سرگرمی سے پیدا ہونے والے کیمیائی مادے دماغ تک پہنچ کر اعصابی رابطے متاثر کر سکتے ہیں جس سے سوچنے اور سمجھنے کی رفتار کم اور ذہنی تھکن بڑھ سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اعصابی نظام میں چھوٹی سی خرابی بھی اہم کردار ادا کرتی ہے، مسلسل ذہنی تناؤ کی صورت میں جسم میں تناؤ کے سبب ہارمون کی مقدار بلند رہ سکتی ہے جس سے یادداشت اور دماغ کی اعلیٰ سطح کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

تحقیق میں خلیوں کے توانائی پیدا کرنے والے نظام کی خرابی کو بھی دماغی تھکن کی ایک وجہ قرار دیا گیا ہے۔ 

اس کے علاوہ نیند کی کمی دماغ سے فاضل مادے خارج کرنے کے قدرتی عمل کو متاثر کرتی ہے جبکہ خون میں شکر کی سطح میں اتار چڑھاؤ دن بھر ذہنی توانائی میں کمی کا باعث بنتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق مسلسل دماغی دھند اور تھکن کو صرف عام تھکاوٹ سمجھنے کے بجائے جسم میں سوزش، توانائی کے نظام، اعصابی توازن اور نیند سے متعلق عوامل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔