جنوبی کوریا کا شمالی کوریا کیلئے 1400 طبی اشیاء فراہم کرنے کا منصوبہ تیار

— فائل فوٹو

جنوبی کوریا نے انسانی بنیادوں پر طبی امداد کے ایک پروگرام کے تحت شمالی کوریا کو 1400 سے زائد طبی اشیاء فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جن میں خودکار بیرونی ڈیفبریلیٹرز (defibrillators) بھی شامل ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جنوبی کوریا کی وزارتِ اتحاد نے شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ کے ایک اسپتال کے لیے 166 اقسام پر مشتمل 1431 طبی اشیاء کی فہرست تیار کی ہے، یہ سامان تشخیص، سرجری اور علاج کے لیے درکار ہو گا۔

خبر رساں ادارے نے سرکاری دستاویز کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ تقریباً 67 لاکھ 50 ہزار ڈالرز مالیت کے اس سامان میں ایکسرے مشینوں، اسٹیتھواسکوپس اور بلڈ پریشر مانیٹرز سمیت تشخیصی آلات کے علاوہ آپریشن تھیٹر کی میزیں اور سرجری و علاج کے لیے دیگر طبی آلات شامل ہیں۔

وزارتِ اتحاد نے کہا ہے کہ اس منصوبے کا حتمی فیصلہ شمالی کوریا کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے مشروط ہے اور اس میں تبدیلی بھی کی جا سکتی ہے۔

جنوبی کوریا کی قومی اسمبلی کے بعض ارکان نے اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طبی آلات کو حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے منتقل کیا جا سکتا ہے یا انہیں ہتھیاروں کے نظام میں موجود خامیوں کی جانچ کے لیے کسی اور مقصد میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

جنوبی کوریا کے وزیرِ اتحاد چنگ ڈونگ یونگ نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انسانی بنیادوں پر فراہم کی جانے والی طبی امداد کو شمالی کوریا کی فوجی پالیسی سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا میں طبی حالات اس قدر ابتر ہیں کہ وہاں فوری امداد کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ دونوں حریف ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باعث بین الکوریائی روابط اور مذاکرات کے ذرائع تقریباً ختم ہو چکے ہیں، اس لیے یہ بھی واضح نہیں کہ پیانگ یانگ جنوبی کوریا کی جانب سے پیش کی جانے والی امداد قبول کرنے پر آمادہ ہو گا یا نہیں۔

سیول نے طبی آلات فراہم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی شمالی کوریا پر عائد پابندیوں کی کمیٹی سے مئی میں پابندیوں سے استثنیٰ حاصل کر لیا تھا۔