امریکی ایچ ون بی ویزا فیس کے نفاذ میں مزید 1 سال کی توسیع

— فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے H-1B ویزا فیس کے نفاذ میں مزید توسیع کر دی۔

ٹرمپ انتظامیہ کے سابق حکم نامے کے مطابق امریکا میں غیر ملکی ہنرمند کارکنوں کو ملازمت دینے کے خواہش مند امریکی آجر ایچ 1 بی ویزا پروگرام کے تحت 1 لاکھ امریکی ڈالرز فیس ادا کر کے بیرونِ ملک سے ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں کے ماہرین کو چند سال کے لیے امریکا میں کام کرنے کی اجازت حاصل کر سکتے ہیں۔

اب امریکی صدر نے اس انتظامی حکم میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ہے۔

امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات کرنے والے امریکی صدر مذکورہ پروگرام کے سبب تنقید کی زد میں رہے ہیں۔

وہ ویزا فیس کو مستقل طور پر 2,000 سے 5,000 ڈالرز کی موجودہ حد سے بڑھا کر کم از کم 1 لاکھ ڈالرز کرنا چاہتے ہیں، تاہم اس کوشش کو قانونی چیلنجز کا سامنا ہے۔

بوسٹن میں قائم ایک عدالت جون میں ایک وفاقی جج کی جانب سے دیے گئے فیصلے کا جائزہ لے رہی ہے۔

مذکورہ جج نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کی گئی اضافی فیس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے حکومت کو اسے وصول کرنے سے روک دیا تھا۔

ایک دوسری عدالت اس معاملے کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا ایک جج نے امریکی چیمبر آف کامرس کی جانب سے فیس کو چیلنج کرنے کی درخواست مسترد کر کے درست فیصلہ کیا تھا۔

امریکی چیمبر آف کامرس ملک کا سب سے بڑا کاروباری لابنگ گروپ ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے فیس میں اضافے کا ابتدائی انتظامی حکم جو پہلی بار ستمبر 2025ء میں جاری کیا گیا تھا، رواں ماہ ختم ہونے والا تھا۔

اس حکم کا اطلاق ان غیر ملکی شہریوں کو دیے جانے والے ویزوں پر نہیں ہوتا تھا جو پہلے ہی طلبہ کے ویزوں پر امریکا میں موجود تھے اور نئے ایچ 1بی ویزا حاصل کرنے والوں کا ایک بڑا حصہ ہیں، موجودہ ویزوں کی تجدید بھی اس اضافی فیس سے مستثنیٰ تھی۔

اگرچہ اس پروگرام پر یہ تنقید کی جاتی رہی ہے کہ بعض کمپنیاں امریکی شہریوں کے بجائے کم اجرت پر غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت دینے کے لیے ان ویزوں کا استعمال کرتی ہیں، تاہم کاروباری گروپس اور کمپنیوں کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام انتہائی ہنرمند ماہرین کی بھرتی اور بعض صنعتوں میں اہل امریکی کارکنوں کی کمی پوری کرنے میں مدد دیتا ہے۔

کانگریس نے یہ ویزا پروگرام 1990ء میں متعارف کرایا تھا اور یہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے بالخصوص اہم ہے، جو بھارت اور چین سے ماہر کارکنوں کی بھرتی کرتی ہیں۔

ممکنہ ویزا درخواست دہندگان کی جانچ پڑتال اور درخواستوں پر کارروائی کے طریقے کار میں تبدیلیوں نے کمپنیوں کے بھرتی اور کاروبار کو وسعت دینے کے منصوبوں کو متاثر کیا ہے۔

ایچ 1 بی ویزا کے بڑے استعمال کنندگان میں شامل بعض کمپنیوں، مثلاً گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفا بیٹ نے بھارت میں اپنی سرگرمیاں بڑھانے کے اقدامات کیے ہیں۔