بھارت نے غیر معمولی باکس آفس کامیابی حاصل کرنے کے باوجود فلم ’دھریندر‘ کو 99 ویں اکیڈمی ایوارڈز کے لیے باضابطہ نامزد نہیں کیا۔
فلم فیڈریشن آف انڈیا کی جیوری کے ایک رکن وویک واسوانی نے سوشل میڈیا پر انکشاف کیا ہے کہ دھریند کچھ لوگوں کو پسند آئی لیکن یہ آسکر کے معیار پر پوری نہیں اترتی۔
دھریندر کے بجائے مراٹھی فلم گوندھل کو 2027ء کے آسکرز میں بھارت کی باضابطہ نمائندگی کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
وویک واسوانی نے بتایا ہے کہ رنویر سنگھ کی اداکاری پر مبنی فلم اس انداز میں بھارتی ثقافت کی نمائندگی نہیں کرتی تھی جسے اکیڈمی ایوارڈز کے لیے فلم منتخب کرتے وقت جیوری تلاش کر رہی تھی۔
انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ آسکر کے لیے بھارت کی انٹری کا انتخاب کرنے والی 14 رکنی جیوری میں سے صرف 4 ارکان نے دھریندر کے حق میں ووٹ دیا جبکہ گوندھل کو مجموعی طور پر 33 فلموں میں سے منتخب کیا گیا ہے۔
ان میں 14 ہندی، 4 مراٹھی، 4 تیلگو، 3 گجراتی، 3 تامل، 1 ملیالم، 1 نیپالی اور 1 ناگالینڈ کی فلم شامل تھی۔
واضح رہے کہ سنتوش دواکَر کی تحریر اور ہدایت کاری میں بننے والی گوندھل ایک تھرلر فلم ہے، جس کی کہانی مہاراشٹر کی روایتی آدھی رات کی رسم اور لوک پرفارمنس کی ایک شکل کے پسِ منظر میں پیش کی گئی ہے، فلم کا نام بھی اسی روایت سے ماخوذ ہے۔