سیارہ زہرہ کے پاس چاند کیوں نہیں؟ سائنسدانوں کا حیران کن انکشاف

— فائل فوٹو 

سیارہ زہرہ نظامِ شمسی کے ان 2 سیاروں میں شامل ہے جن کے پاس کوئی قدرتی چاند نہیں ہے اور اس حوالے سے اب سائنسدانوں نے ایک اہم نظریہ پیش کر دیا ہے۔

سیارہ زہرہ جسامت، کمیت اور ساخت کے اعتبار سے زمین سے مشابہت رکھتا ہے، لیکن اس کے پاس کوئی چاند موجود نہیں ہے۔

سائنسدان طویل عرصے سے یہ جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ زمین سے ملتی جلتی خصوصیات رکھنے والے اس سیارے کے پاس کوئی اپنا چاند کیوں نہیں؟

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ڈاکٹر اسٹیفن کین کی قیادت میں محققین کی ایک ٹیم نے یہ جاننے کے لیے کمپیوٹر سیمولیشنز کے ذریعے اس امکان کا جائزہ لیا کہ کیا سیارہ زہرہ کے پاس ماضی میں کوئی چاند تھا؟ اور اگر تھا تو پھر اب وہ کہاں گیا؟

تحقیق کے نتائج کے مطابق سیارہ زہرہ کی گردش کی رفتار اس ممکنہ چاند کے مستقبل میں بنیادی کردار ادا کر سکتی تھی۔

تحقیق کے نتائج میں بتایا گیا ہے کہ اگر سیارہ زہرہ تیزی سے گردش کرتا اور اس کا 1 دن تقریباً 12 گھنٹے سے کم ہوتا تو زمین کے چاند جتنی کمیت رکھنے والا سیٹلائٹ اربوں سال تک مستحکم رہ سکتا تھا لیکن سیارہ زہرہ کی گردش سست ہونے کی صورت میں مدوجزر کی قوتیں ممکنہ چاند کو مسلسل سیارے کی جانب کھینچتیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چاند سیارے کے مزید قریب پہنچتا، جہاں سیارے کی کششِ ثقل اسے ٹکڑے ٹکڑے کر سکتی تھی اور بالآخر اس کا ملبہ زہرہ کی سطح سے جا ٹکراتا۔

ایسٹرو فزیکل جرنل میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق میں یہ امکان بھی سامنے آیا ہے کہ سیارہ زہرہ کی ابتدائی تاریخ میں ہونے والے بڑے تصادم ہی اس کی موجودہ سست اور الٹی سمت میں گردش کا سبب بنے ہوں گے اور تصادم کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ملبہ یا تو دوبارہ زہرہ پر گرا یا پھر ممکنہ طور پر ایک چاند کی شکل اختیار کر گیا جو طویل عرصے تک مستحکم مدار برقرار نہ رکھ سکا۔

محققین کے مطابق سیارہ زہرہ کو ممکنہ چاند سے محروم ہونے کے لیے بعد میں کسی اور بڑے تباہ کن تصادم کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ ابتدائی تصادم کے بعد مدوجزر کی قدرتی قوتیں ہی وقت کے ساتھ چاند کو سیارے کی جانب کھینچنے اور بالآخر اسے تباہ کرنے کے لیے کافی ہو سکتی تھیں۔

سائنسدانوں نے واضح کیا ہے کہ تحقیق اس بات کا قطعی ثبوت نہیں دیتی کہ سیارہ زہرہ کے پاس ماضی میں واقعی کوئی چاند موجود تھا بلکہ صرف یہ بتاتی ہے کہ سیارے کی موجودہ چاند سے محرومی کو اس کی گردش اور کششِ ثقل کے اثرات کے ذریعے ممکنہ طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔