اوپن اے آئی و اینتھروپک کے سابق محقق کا انتباہ

 — فائل فوٹو

اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے سابق محقق جیکب کوکسن نے خبردار کیا ہے کہ انتہائی ذہین مصنوعی ذہانت (اے آئی) تیار کرنے کی کوشش ایسے ہے جیسے کسی خلائی مخلوق کو بلایا جا رہا ہو۔

انہوں نے واضح کیا کہ انتہائی ذہین اے آئی تیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسے ذہن کو وجود میں لانا جسے انسان نہ تو مکمل طور پر سمجھتا ہے اور نہ ہی اس پر قابو پانے کی ضمانت رکھتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جیکب کوکسن نے حال ہی میں کلاڈ چیٹ بوٹ بنانے والی کمپنی اینتھروپک سے علیحدگی اختیار کی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کے اس انتباہ نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کی ہے کہ مصنوعی ذہانت تیار کرنے والے بعض افراد خود سنجیدگی سے یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ رفتار برقرار رہی تو یہ ٹیکنالوجی رواں دہائی کے اختتام تک پوری انسانیت کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔

ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جیکب کوکسن نے کہا کہ سُپر انٹیلی جنس کے تصور کو کسی خلائی مخلوق کو بلانے سے تشبیہ دی گئی ہے، اس لیے اسے ایک ایسے اجنبی ذہن کے تناظر میں دیکھنا جسے ہم پوری طرح نہیں سمجھتے، کسی بھی ٹھوس تباہ کن منظر نامے کے بغیر بھی انتہائی خوف ناک ہے۔

جیکب کوکسن ایسے خدشات کا اظہار کرنے والے پہلے شخص نہیں، مصنوعی ذہانت کی ترقی کی موجودہ رفتار برقرار رہنے کی صورت میں انسانیت کے ممکنہ خاتمے سے متعلق خدشات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

ان کا انتباہ تاہم اس لیے نمایاں ہے کہ اس کی گونج مصنوعی ذہانت کے شعبے کے اہم رہنماؤں تک بھی پہنچی ہے۔

اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹیو ڈاریو اموڈے، اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹیو سیم آلٹ مین اور گروک کے سربراہ ایلون مسک سمیت ٹیکنالوجی کے نمایاں نام اب مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار میں ممکنہ کمی پر بات کر رہے ہیں۔