مصنوعی پلکیں لگوانا ضرر رساں، کیڑے پلکوں کی جڑوں میں داخل ہو کر بینائی کو متاثر کر سکتے ہیں، تحقیق

نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مصنوعی پلکیں لگوانے سے اس میں ضرر رساں کیڑے جگہ بنا کر پلکوں کی جڑوں میں داخل ہو کر بینائی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ 

تحقیق کے مطابق باقاعدگی سے یہ بیوٹی ٹریٹمنٹ کروانے والی 96 فیصد خواتین ان باریک خوردبینی کیڑوں سے متاثر ہو سکتی ہیں۔ 

ان کیڑوں کو طبی زبان میں ڈیموڈیکس کہا جاتا ہے۔ یہ مردہ جلد کے ان خلیوں کو کھاتے ہیں جو مصنوعی پلکوں کو جوڑنے کے لیے استعمال ہونے والے خشک گوند میں جمع ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں یہ کیڑے تیزی سے افزائش کر سکتے ہیں۔

ماہریں صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ مسئلہ ممکنہ طور پر سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے، جن میں آنکھوں کے گرد خارش، جلد کا چھلکے دار ہونا اور دھندلا نظر آنا شامل ہیں۔

دنیا بھر میں مصنوعی پلکیں لگوانے کے لاکھوں طریقۂ کار انجام دیے جاتے ہیں۔ اس علاج میں بیوٹیشن مصنوعی ریشوں کی لڑیوں کو پلکوں کے ساتھ گوند کی مدد سے جوڑتے ہیں، جس سے پلکیں زیادہ گھنی اور لمبی دکھائی دیتی ہیں۔ 

تاہم اب ماہرین چشم نے خبردار کیا ہے کہ اس طریقہ علاج کے باعث آنکھوں میں مسائل پیدا ہونے کے حوالے سے بڑھتے ہوئے شواہد سامنے آ رہے ہیں۔ یوکرین کی نیشنل پیروگوف میموریل میڈیکل یونیورسٹی کے ماہرین نے یورپی سوسائٹی برائے کیٹریکٹ اینڈ ریفریکٹو سرجنز کی 44ویں کانگریس میں اس طریقہ علاج کے ممکنہ نقصانات کے حوالے سے اہم شواہد پیش کیے۔

یہ تحقیق ماہر چشم ڈاکٹر تاتیانا ژمود اور ان کی ٹیم نے کی۔ اس میں 16 سے 28 سال کی عمر کی 345 خواتین سے سروے کیا گیا کہ وہ کتنی باقاعدگی سے مصنوعی پلکیں لگواتی ہیں۔ تقریباً 48 فیصد خواتین نے بتایا کہ علاج کے بعد انہیں کسی نہ کسی قسم کی تکلیف، آنکھوں میں سرخی یا خارش کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کے بعد ٹیم نے 25 ایسی خواتین کی پلکوں کے نمونوں کا مائیکرواسکوپ کے ذریعے جائزہ لیا جو باقاعدگی سے یہ طریقہ علاج کرواتی تھیں۔ ان میں سے 24 خواتین کے نمونوں میں ڈیموڈیکس مائٹس پائے گئے۔ ان میں سے زیادہ تر میں خارش، جلن، سرخی، سوجن، جلد کا چھلکے دار ہونا اور پلکوں کا آپس میں چپکنا جیسی علامات بھی موجود تھیں۔

ڈیموڈیکس مائٹس بالغ افراد میں عام طور پر پائے جاتے ہیں اور عموماً قدرتی طور پر جھڑ جاتے ہیں، اس لیے عام حالات میں نقصان نہیں پہنچاتے۔ لیکن جب ان کی تعداد غیر معمولی طور پر بڑھ جائے تو یہ آنکھوں میں تکلیف دہ انفیکشن کا سبب بن سکتے ہیں۔

ڈاکٹر ژمود نے اس حوالے سے خواتین کو مشورہ دیا گیا وہ دن میں دو مرتبہ پلکوں کو کسی نرم کلینزر اور لیش برش کی مدد سے صاف کریں۔