مصنوعی ذہانت کے علم کے بغیر ہم ناکام ہو جائیں گے: انور ابراہیم

ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم—فائل فوٹو 

ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے مسلم علما اور معاشروں پر زور دیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلیں۔

انہوں نے مسلم معاشروں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں پیچھے رہ جانے سے وہ بیرونی اثر و رسوخ کے لیے کمزور ہو سکتے ہیں۔

انور ابراہیم نے جنوبی بھارتی ریاست کیرالہ کے شہر کوژیکوڈ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علم کے بغیر ہم ناکام ہو جائیں گے، مصنوعی ذہانت کو سمجھے بغیر ہم نوآبادیاتی تسلط کا شکار ہو جائیں گے۔

انور ابراہیم نے کہا کہ مذہبی علما کو موجودہ دور کی نئی حقیقتوں اور چیلنجز کو سمجھنے کی ضرورت ہے، جن میں جدید ٹیکنالوجی، نئے علوم، ڈیجیٹل تبدیلی اور مصنوعی ذہانت شامل ہیں، تاہم ٹیکنالوجی میں ترقی مذہبی اور اخلاقی اصولوں کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں علم درکار ہے، ہمیں مہارت درکار ہے، مسلم معاشروں کو یہ بھی یقینی بنانا ہو گا کہ ٹیکنالوجی کی ترقی ان کے ایمان اور اخلاقی اقدار کا تحفظ کرے۔

ملائیشیا کے وزیرِ اعظم نے خبردار کیا کہ نئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے ایسے اقدار اور تصورات متعارف کرائے جانے کا خطرہ موجود ہے جو ایمان اور اخلاقیات کو کمزور کر سکتے ہیں، بالخصوص اس وقت جب معاشروں کے پاس ان ٹیکنالوجیز کو سمجھنے اور ان کی سمت متعین کرنے کے لیے کافی علم نہ ہو۔

انہوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے چیلنجز پر مسلم علما اور معاشرے خاطر خواہ توجہ نہیں دے رہے، حالانکہ ٹیکنالوجی کی صنعت کی نمایاں شخصیات کے درمیان بھی مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات پر بحث بڑھ رہی ہے۔

ملائیشیا کے وزیرِ اعظم نے مصنوعی ذہانت کے ساتھ زیادہ فعال انداز میں وابستہ ہونے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی میں پیش رفت کو علم، اخلاقیات اور مذہبی اقدار کی بنیاد پر آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

ملائیشیا کے وزیرِ اعظم نئی دہلی میں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے بعد کیرالہ پہنچے تھے۔