ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادرآباد میں کراچی کے کارکنان کا جنرل ورکرز اجلاس ہوا۔
خطاب میں وفاقی وزیرِ صحت و ایم کیو ایم رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان انتظامی یونٹس کے قیام کے حق میں بھرپور پاور شو کرے گی، اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں انتظامی ری اسٹرکچرنگ کی جائے۔
انہوں نے کہا ہے کہ اختیارات اور وسائل کا کنٹرول پاکستان کے عام شہریوں کے ہاتھ میں آنا چاہیے، صوبوں نے 18 ویں ترمیم کے بعد اختیارات اور وسائل کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ موجودہ نظامِ حکومت کے باعث عام پاکستانیوں کی محرومیوں میں اضافہ ہوا ہے، 79 سال سے یہ نظام ملک میں غدار پیدا کر رہا ہے اور اپنے ہی لوگوں کو اپنی فوج سے لڑوا رہا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ کراچی میں کتے کے کاٹنے، کھلے گٹروں میں گرنے اور ڈمپرز کی زد میں آ کر بچے اور شہری جان سے جا رہے ہیں، جبکہ اسپتالوں میں غلط سرنج کے استعمال سے ایڈز پھیل رہا ہے۔
مصطفیٰ کمال کے مطابق سڑکوں پر موبائل چھیننے کے دوران نوجوان قتل ہو رہے ہیں، کراچی کے نوجوانوں کے لیے کوئی سرکاری روزگار نہیں اور کوٹے پر بھی کوٹہ نہیں دیا جاتا۔
انہوں نے کہا ہے کہ جب شہر کے کوٹے کی بات آتی ہے تو جعلی ڈومیسائل پر نوکریاں فروخت کر دی جاتی ہیں۔