امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اردن میں امریکی اڈے کو نشانہ بنانے میں چین کے کردار سے متعلق رپورٹس مسترد کر دیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے مسترد کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جولائی میں اردن میں ایک امریکی فوجی اڈے پر حملے سے قبل ایران نے چینی اداروں سے اس اڈے کی سیٹلائٹ تصاویر حاصل کی تھیں، اس حملے میں 3 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ چینی اداروں نے یہ تصاویر ایران کو فراہم کی تھیں، تاہم رائٹرز فوری طور پر اس رپورٹ کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا وہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ آئندہ ملاقات میں یہ معاملہ اٹھائیں گے تو انہوں نے براہِ راست جواب نہیں دیا، اس کے بجائے انہوں نے چین کی نگرانی کی سرگرمیوں کا موازنہ امریکا کی سرگرمیوں سے کیا۔
امریکی اور چینی صدور کی 24 ستمبر کو امریکا میں ملاقات متوقع ہے، تاہم بیجنگ نے تاحال باضابطہ طور پر اس ملاقات کی تصدیق نہیں کی۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر شی جن پنگ کے ساتھ اپنے اچھے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جانب سے مناسب رویہ اختیار کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے اس معاملے میں ملوث چینی اداروں کی شناخت نہیں کی اور نہ ہی چینی حکومت پر براہِ راست ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔
ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ان کی انتظامیہ چین کے ساتھ کشیدگی کم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ امریکا کو ایران کے ساتھ چین کے قریبی تعلقات پر تشویش بھی ہے۔