امریکا میں خصوصی ’غیر ملکی دہشت گرد‘ عدالت کا پہلی بار استعمال، افغان خاتون ملک بدر

امریکی حکومت نے ٹیکساس میں مقیم افغان خاتون نذیرہ حاجی زادہ کو ملک بدر کر دیا، جس کے لیے ایک خصوصی عدالت کا پہلی مرتبہ استعمال کیا گیا۔

امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق 47 سالہ نذیرہ حاجی زادہ امریکا میں قانونی مستقل رہائش رکھتی تھیں، تاہم انہوں نے اپنی ملک بدری کے خلاف قانونی کارروائی جاری رکھنے کے بجائے امریکا چھوڑنے پر رضامندی ظاہر کی۔

حاجی زادہ کے خلاف کارروائی ایلین ٹیررسٹ ریموول کورٹ کے تحت کی گئی، جو 1996 میں قائم کی گئی تھی۔ عدالت کا مقصد ایسے غیر امریکی شہریوں کے مقدمات کی سماعت کرنا ہے جن پر دہشت گردی سے متعلق الزامات ہوں اور جن کے خلاف شواہد قومی سلامتی یا خفیہ معلومات سے متعلق ہوں۔

خیال رہے کہ جولائی میں حاجی زادہ کے مقدمے سے قبل اس عدالت میں کبھی کوئی مقدمہ نہیں سنا گیا تھا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حاجی زادہ پر خود کسی جرم کا الزام عائد نہیں کیا گیا تھا، تاہم ان کے بیٹے عبداللّٰہ حاجی زادہ اور داماد ناصر احمد توحید کو 2024 کے انتخابی دن بڑے پیمانے پر فائرنگ کی منصوبہ بندی کے الزام میں قصوروار قرار دیا جا چکا ہے۔

حکام کے مطابق اس سازش سے خود کو ’اسلامک اسٹیٹ‘ کہنے والی تنظیم کے نظریات سے تحریک ملی تھی۔

استغاثہ نے حاجی زادہ پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ خاندان کی سربراہ تھیں اور انہوں نے خاندان کے افراد کو انتہا پسندی کی جانب مائل کرنے میں کردار ادا کیا۔

امریکی محکمۂ انصاف کا کہنا ہے کہ حاجی زادہ نے خود کو ’غیر ملکی دہشت گرد‘ تسلیم کرتے ہوئے ملک بدری کے حکم کے خلاف اپیل کا حق چھوڑ دیا، جس کے بعد ان کی سابقہ امیگریشن حیثیت ختم کر دی گئی۔

امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے اس اقدام کو قومی سلامتی اور قانون کی حکمرانی کے لیے کامیابی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی حمایت یا اس کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کو امریکا میں رہنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

دوسری جانب حاجی زادہ کے عدالت کی جانب سے مقرر کردہ وکلا نے عدالت کی کارروائی اور طریقۂ کار پر سخت اعتراضات اٹھائے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی مؤکلہ کے خلاف موجود شواہد تک رسائی نہیں دی گئی۔

وکلا کے مطابق کسی قانونی مستقل رہائشی کو عدالت میں پیش کرنا، لیکن اس کے خلاف استعمال ہونے والے شواہد اسے یا اس کے وکلا کو دکھانے سے انکار کرنا، امریکی آئین میں فراہم کردہ مناسب قانونی کارروائی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔

وکلا نے یہ بھی واضح کیا کہ حاجی زادہ کی ملک بدری پر رضامندی کو خصوصی عدالت کی قانونی حیثیت کی توثیق نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ان کے بقول، جب کسی جج کے سامنے عدالت کی آئینی حیثیت کا سوال اٹھایا جائے گا تو امکان ہے کہ اسے غیر آئینی قرار دے دیا جائے۔