پانامہ نہر کی انتظامیہ نے ایل نینو کے باعث خشک سالی اور پانی کی سطح میں کمی کے خدشات کے پیشِ نظر نہر سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد محدود کرنے کا اعلان کر دیا۔
عرب میڈیا کے مطابق پانامہ کنال کی کا کہنا ہے کہ 4 ستمبر سے روزانہ زیادہ سے زیادہ 34 بحری جہازوں کو نہر سے گزرنے کی اجازت ہوگی جبکہ 15 ستمبر سے یہ حد مزید کم کر کے 32 جہاز روزانہ کردی جائے گی۔
پانامہ نہر سے دنیا کی تقریباً 5 فیصد سمندری تجارت گزرتی ہے جبکہ نہر میں روزانہ تقریباً 40 جہازوں کے گزرنے کی گنجائش ہے، رواں سال جون سے اب تک روزانہ اوسطاً 35 بحری جہاز نہر سے گزر رہے ہیں۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پانامہ نہر میں جہازوں کی آمد و رفت میں نمایاں کمی سے عالمی ترسیل میں تاخیر اور ان صنعتوں کے اخراجات میں اضافے کا خدشہ ہے جو پانامہ کنال پر انحصار کرتی ہیں۔
2023ء میں شدید خشک سالی کے باعث نہر سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد تقریباً 36 فیصد کم ہوگئی تھی جس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہوئی تھی، اس وقت پانی کی کمی کی وجہ ایل نینو کے ساتھ ساتھ انسانی سرگرمیوں کے باعث بڑھتی موسمیاتی تبدیلی کو بھی قرار دیا گیا تھا۔
رپورٹ میں شامل کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق آئندہ چند ماہ میں ایل نینو غیر معمولی طور پر شدید ہو سکتا ہے جس سے شدید گرمی، خشک سالی اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ متوقع ہے۔
واضح رہے کہ پانامہ نہر ’واٹر لاک‘ نظام کے ذریعے بحری جہازوں کو بحرالکاہل اور بحیرۂ کیریبیئن کے درمیان منتقل کرتی ہے۔
نہر کے نظام کو قریبی جھیلوں اور آبی ذخائر، خصوصاً گاتون جھیل (Gatun Lake) سے میٹھا پانی ملتا ہے۔
گاتون جھیل سے پانامہ کے شہریوں کو پینے کا پانی بھی فراہم کیا جاتا ہے جس کے باعث خشک سالی کے دوران پانی کے وسائل پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔