ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کو جارحانہ سفارتکاری سمجھتے ہیں۔
ایک بیان میں باقر قالیباف نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کر کے محور مزاحمت کو تسلیم کر لیا، انہوں نے دستخط کر کے محاذ مزاحمت کو فارسی میں تسلیم کر لیا۔
انہوں نے کہا ہے کہ ٹرمپ کا اصرار تھا کہ ایران میزائل و نیوکلیئر پروگرام، مزاحمت، ہرمز بالائے طاق رکھے، مذاکرات کا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکا نے اسی رات ہرمز کی ناکہ بندی ختم کردی تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے لکھا تھا کہ ایرانی بھی آبنائے ہرمز کھول دیں گے، ایران سے متعلق بات پر میں نےمذاکرات کاروں سے کہا ٹرمپ بیان واپس لیں، میں نے مذاکرات کاروں سے کہا ٹرمپ نے بیان واپس نہ لیا تو ایران حملہ کرے گا، 58 منٹ بعد ہی ٹرمپ نے اپنے بیان کا دوسرا حصہ سوشل میڈیا سے ہٹا دیا۔
باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اسرائیل نے لبنان میں داہیہ پر حملہ کیا تو میں نے انتقامی کارروائی سے خبردار کیا تھا، پورے خطے کو نشانہ بنانے کی دھمکی پر اسرائیل دوبارہ حملے سے باز آیا۔