انگلینڈ اور ویلز میں جنگلات میں آگ لگنے کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیشِ نظر حکومت نے لاکھوں افراد کے موبائل فونز پر ہنگامی الرٹ جاری کر دیا۔
عوام کو خبردار کیا گیا ہے کہ ایسی کسی بھی سرگرمی سے گریز کریں جس سے آگ بھڑک سکتی ہو۔
حکومت کے مطابق ملک بھر میں جنگلات میں آگ لگنے کا خطرہ انتہائی زیادہ ہے۔ شہریوں، زمین کے مالکان اور سیاحوں کو ڈسپوزایبل باربی کیو، الاؤ، باغات میں کچرا جلانے اور آتش بازی سمیت آگ پیدا کرنے والی سرگرمیوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزیراعظم اینڈی برنہم نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ہنگامی الرٹ کو سنجیدگی سے لیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں برطانیہ ’’خشک تنکوں کے ڈھیر‘‘ کی مانند ہے اور ایک معمولی سی چنگاری بھی بڑی آگ کا سبب بن سکتی ہے۔
ویسٹ مڈلینڈز کے علاقے اسٹوربرج میں جنگلات کی آگ سے 19 گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ فائر فائٹرز ملک کے مختلف علاقوں میں متعدد مقامات پر لگی آگ پر قابو پانے میں مصروف ہیں۔
حکومت نے جنگلات کی آگ سے نمٹنے کے لیے فوج کی مدد بھی حاصل کی ہے اور مستقبل میں آگ بجھانے والے طیاروں کی خدمات حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ شدید گرمی اور خشک موسم کے باعث صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔