ماہرین صحت نے کہا ہے کہ ڈیمنشیا (ذہنی پسماندگی اور نسیان کی بیماری) کو خود سے دور رکھنے کے لیے تمباکو اور نمک کا استعمال ترک کرنا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈیمنشیا سے بچاؤ کے لیے مذکورہ بالا اقدامات کرکے بلڈ پریشر کو معمول پر رکھا اور خون میں شوگر کی سطح کو مستحکم کیا جاسکتا ہے۔
اس حوالے سے امریکا میں کی گئی ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر کوئی شخص درمیانی عمر میں ان تینوں صحت بخش عادات پر عمل کرے، یعنی بلڈ پریشر نارمل رکھے، خون میں شوگر کی سطح قابو میں رکھے اور سگریٹ نوشی نہ کرے تو ڈیمنشیا کے آغاز کو تقریباً 13 سال تک مؤخر کیا جا سکتا ہے۔
امریکا کی نیو یارک یونیورسٹی کے محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ خواتین میں مردوں کے مقابلے میں ڈیمنشیا نسبتاً دیر سے ظاہر ہوتا ہے، چاہے ان کے خطرے کے عوامل کچھ بھی ہوں۔
اس وقت برطانیہ میں 9 لاکھ سے زائد افراد ڈیمنشیا کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ بیماری ملک میں موت کی سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہے اور ہر سال 74 ہزار سے زیادہ اموات کا سبب بنتی ہے۔
ڈیمنشیا کے زیادہ تر کیسز 65 سال سے زائد عمر کے افراد میں سامنے آتے ہیں، جبکہ اس بیماری کا خطرہ 65 سال کی عمر کے بعد ہر پانچ سال میں تقریباً دگنا ہو جاتا ہے۔ تاہم بڑھتی ہوئی سائنسی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈیمنشیا لازمی طور پر بڑھاپے کا حصہ نہیں ہے اور اس سے کافی حد تک بچاؤ ممکن ہے۔
صحت مند طرز زندگی اپنانا، جیسے کہ باقاعدگی سے ورزش کرنا، متوازن غذا کھانا اور جسمانی وزن کو مناسب حد میں رکھنا، ڈیمنشیا کے خطرے کو 45 فیصد سے زیادہ کم کر سکتا ہے۔
اب نیو یارک یونیورسٹی لینگون ہیلتھ کے سائنس دانوں کی تازہ تحقیق سے یہ بھی اشارہ ملا ہے کہ اگر لوگ درمیانی عمر میں صحت کے اہم مارکرز کو برقرار رکھیں، تو وہ اس بیماری کے آغاز کو ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے تک مؤخر کر سکتے ہیں۔