Home اہم خبریںجو بائیڈن کی نئی آڈیو ریکارڈنگز میں اہم انکشافات

جو بائیڈن کی نئی آڈیو ریکارڈنگز میں اہم انکشافات

by 93 News
0 comments

سابق امریکی صدر جو بائیڈن — فائل فوٹو

قانونی جنگ کے بعد جاری ہونے والی سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی نئی جاری کردہ آڈیو ریکارڈنگز میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔

مذکورہ آڈیو ریکارڈنگز میں ان کی ایک گھوسٹ رائٹر کے ساتھ گفتگو اور یادداشت سے متعلق مشکلات سامنے آئی ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق دائیں بازو کے گروپ اوور سائٹ پروجیکٹ نے حال ہی میں بائیڈن اور ان کے سوانح نگار مارک لیوس زوونٹزر کے درمیان ہونے والی گفتگو کی آڈیو کلپس جاری کیں۔

یہ ریکارڈنگز بظاہر سابق اسپیشل کونسل رابرٹ ہر کی 2024ء کی رپورٹ میں سامنے آنے والے نکات کی تائید کرتی ہیں، جس میں کہا گیا تھا کہ بائیڈن نے خفیہ معلومات افشا کیں، انہیں یادداشت کے مسائل درپیش تھے اور نائب صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی ان کے پاس کچھ خفیہ مواد موجود تھا۔

خفیہ مواد سے متعلق گفتگو

آڈیو ریکارڈنگز میں بائیڈن کو اپنے نائب صدارت کے دور کے نوٹس کے بارے میں گفتگو کرتے سنا جا سکتا ہے، جو انہوں نے مبینہ طور پر مارک لیوس زوونٹزر کو دکھائے تھے۔ یہ نوٹس مبینہ طور پر ان کی نائب صدارت کے دوران خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات سے وابستہ تھے، تاہم جاری کردہ آڈیو کلپس میں متعلقہ معلومات کو اب بھی حذف شدہ حالت میں رکھا گیا ہے۔

فروری 2017ء میں سابق صدر کے وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے ایک ماہ بعد ریکارڈ کی گئی گفتگو میں بائیڈن کو گھوسٹ رائٹر سے یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ میرے پاس یہ موجود ہے۔

ایک موقع پر بائیڈن نے کہا کہ مجھے ابھی نیچے سے تمام خفیہ مواد ملا ہے۔

اکتوبر 2016ء کی ایک اور ریکارڈنگ میں، جب وہ صدر براک اوباما کے نائب صدر تھے، بائیڈن مارک لیوس زوونٹزر کو کہتے ہیں کہ میرے پاس اس پورے عرصے کے حوالے سے تفصیلی نوٹس موجود ہیں، انہیں (وائٹ ہاؤس کو) معلوم نہیں تھا کہ میرے پاس یہ موجود ہیں۔

جو بائیڈن کی یادداشت سے متعلق مشکلات

ریکارڈنگز میں کئی ایسے لمحات بھی شامل ہیں جہاں جو بائیڈن کو تاریخوں اور تفصیلات کو یاد کرنے میں دشواری کا سامنا کرتے سنا جا سکتا ہے۔

رابرٹ ہر نے بالآخر بائیڈن کے خلاف مقدمہ چلانے سے گریز کیا، ان کا کہنا تھا کہ بائیڈن نے تحقیقات میں تعاون کیا، جان بوجھ کر غلط کاری کے شواہد موجود نہیں تھے اور ان کی یادداشت کے مسائل جیوری کے فیصلے پر اثر انداز ہو سکتے تھے۔

اوور سائٹ پروجیکٹ نے کہا کہ انہوں نے مذکورہ ٹیپس کو منظر عام پر لانے کے لیے بھرپور جدوجہد کی، حالانکہ یہ ریکارڈنگز بہت پہلے جاری ہو جانی چاہیے تھیں۔

رپورٹ کے مطابق بائیڈن کے 2021ء سے 2025ء تک صدر رہنے کے دوران امریکی محکمہ انصاف نے یہ آڈیو ریکارڈنگز جاری کرنے سے انکار کیا تھا، تاہم مئی میں بائیڈن کے ذاتی وکلا نے ریکارڈنگز کو نجی رکھنے کے لیے محکمہ انصاف کے خلاف مقدمہ دائر کیا لیکن قانونی ناکامیوں کے بعد انہوں نے یہ مقدمہ واپس لے لیا۔

You may also like

Leave a Comment

Soledad is the Best Newspaper and Magazine WordPress Theme with tons of options and demos ready to import. This theme is perfect for blogs and excellent for online stores, news, magazine or review sites.

Buy Soledad now!

Edtior's Picks

Latest Articles

u00a92022u00a0Soledad.u00a0All Right Reserved. Designed and Developed byu00a0Penci Design.

Are you sure want to unlock this post?
Unlock left : 0
Are you sure want to cancel subscription?
-
00:00
00:00
Update Required Flash plugin
-
00:00
00:00