میڈیا رپورٹ جانچ کے طریقہ کار میں ناکامی کے باوجود پیٹر مینڈلسن کو امریکا میں سفیر تعینات کرنے کے معاملے نے برطانوی وزیر اعظم اسٹارمر کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔
سر کیئر اسٹارمر نے پارلیمنٹ میں اپنے بیان میں کہا کہ پیٹر مینڈلسن کی بطور سفیر تقرری نہیں ہونی چاہیے تھی، فیصلے کی ذمہ داری لیتا ہوں۔
انکا مزید کہنا تھا کہ جیفری ایپسٹین کے متاثرین سے دوبارہ معافی مانگتا ہوں جو میرے فیصلے کی وجہ سے واضح طور پر ناکام ہوئے۔
برطانوی وزیراعظم نے کہا 14 اپریل کو پہلی مرتبہ پتہ چلا کہ جانچ میں ناکامی کے باوجود فارن آفس نے انھیں کلئیر کر دیا، حکام سے کہا ہے کہ پتہ کریں کہ یہ فیصلہ کس نے کس بنیاد پر کیا، یہ معلومات مجھے پہلے ملنی چاہیے تھی۔
دوسری جانب کنزرویٹو لیڈر کیمی بیڈینوک نے کہا وزیر اعظم کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے، لارڈ مینڈلسن کا ایشو قومی سلامتی کا معاملہ ہے، وزیراعظم خود ذمہ داری نہیں لے رہے، دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرا کر ان کے کیرئیر ختم کر رہے ہیں۔
کیمی بیڈینوک نے کہا کہ وزیر اعظم کو استعفیٰ دے دینا چاہیے لیکن لگتا ہے کہ وہ ایسا کرنے کو تیار نہیں، اسٹارمر کو عہدے سے ہٹانے کیلئے ہر پارلیمانی طریقہ استعمال کرنے پر غور کر رہی ہوں۔
ریفارم یوکے پارٹی کے رہنما نائجل فراج نے کہا وزیراعظم کیلئے یہ کہنا ناممکن ہے کہ لارڈ مینڈلسن سے متعلق وارننگ لائٹس فلیش کرتی نظر نہیں آئیں۔
فرسٹ منسٹر اسکاٹ لینڈ جان سوینی نے کہا لارڈ مینڈلسن کے حوالے سے حکومت کا کردار ڈرائیونگ کرتے ہوئے سو جانے جیسا ہے۔
ادھر میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتہ یہ انکشاف ہوا تھا کہ فارن آفس نے جانچ کرنے والے افسران کے مشورے کو رد کر دیا تھا۔