ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ باقاعدگی سے خواب دیکھنا آپ کو صحت مند رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق آپ کتنی دیر سوتے ہیں اس کے بجائے آپ کی نیند کی نوعیت اس بات پر زیادہ اثر انداز ہو سکتی ہے کہ آپ کو مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے کا کتنا خطرہ ہے۔
پچھلی تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ روزانہ چھ سے آٹھ گھنٹے کی نیند کئی بیماریوں کے خطرے کو کم کرتی ہے، تاہم نیند کے مختلف مراحل اور صحت کے درمیان تعلق پر بہت کم تحقیق ہوئی ہے۔
چین میں کی جانے والی اس حالیہ تحقیق میں 95,000 سے زائد بالغ افراد کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن افراد کو محو خواب نیند ملی، ان میں 83 بیماریوں کا خطرہ کم تھا۔
انگریزی میں اسے ریپڈ آئی موومنٹ کہتے ہیں اور یہ نیند کا وہ مرحلہ ہے جس کے دوران عموماً خواب آتے ہیں۔ یہ نیند شروع ہونے کے تقریباً 90 منٹ بعد شروع ہوتی ہے اور تقریباً ہر 90 منٹ بعد دوبارہ آتی ہے۔ مجموعی نیند کا تقریباً 20 سے 25 فیصد حصہ ریپڈ آئی موومنٹ نیند پر مشتمل ہوتا ہے۔ باقی نیند ہلکی اور گہری نیند کے مراحل پر مشتمل ہوتی ہے۔
صبح جلدی جاگنے سے بھی محو خواب نیند کا دورانیہ کم ہو سکتا ہے، کیونکہ رات کے دوسرے نصف حصے میں ریپڈ آئی موومنٹ نیند کے ادوار زیادہ طویل ہو جاتے ہیں۔ شرکاء کی نیند کی پیمائش کے لیے محققین نے ان سے سات دن تک کلائی پر سینسر پہننے کو کہا۔
محققین نے نیند کے ہر مرحلے کا دورانیہ، مجموعی نیند، رات کے دوران جاگنے کا وقت اور نیند کے معمول میں بے قاعدگی کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد شرکاء کا تقریباً نو سال تک مشاہدہ کیا گیا اور محققین نے ان کے نیند کے معمولات اور ایک ہزار سے زائد بیماریوں کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا۔
تحقیق کے مطابق، جو لوگ زیادہ وقت محو خواب نیند میں گزارتے تھے ان میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ 26 فیصد اور ڈیمنشیا کا خطرہ 46 فیصد تک کم تھا۔ اسی طرح پارکنسنز ڈیزیز (رعشہ کی بیماری) کا خطرہ 80 فیصد کم تھا۔
یہ نتائج تقریباً 48 منٹ اضافی ریپڈ آئی موومنٹ نیند سے منسلک تھے۔ جن افراد کو زیادہ گہری نیند ملتی تھی، ان میں بھی صحت کے کچھ فوائد دیکھے گئے۔ ان میں سات بیماریوں کا خطرہ کم تھا، جن میں ٹائپ 2 ذیابیطس اور شدید ڈپریشن بھی شامل ہیں۔
نیند کے معمول میں بے قاعدگی اور رات کے دوران بار بار جاگنا اضطراب اور نشہ آور اشیا کے استعمال سے متعلق عوارض سمیت بعض بیماریوں کے زیادہ خطرے سے منسلک پایا گیا۔
مجموعی طور پر جو افراد باقاعدگی سے چھ سے آٹھ گھنٹے سوتے تھے، ان میں بیماریوں کا مجموعی خطرہ سب سے کم تھا جبکہ جو افراد پانچ گھنٹے سے کم سوتے تھے ان میں 37 بیماریوں کا خطرہ زیادہ پایا گیا۔