بالی ووڈ کی فلم ویلکم میں اپنے یادگار کردار کے لیے اضافی دن کام کرنے کے باوجود صرف 1 لاکھ روپے معاوضہ ملنے سے متعلق اداکار مشتاق خان کا پرانا بیان ان کی موت کے بعد دوبارہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگا۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق 56 سالہ اداکار نے 2007ء کی کامیڈی فلم میں بالو کا مزاحیہ کردار ادا کیا تھا۔
انہوں نے ایک موقع پر اس بات کا شکوہ کیا تھا کہ مجھے فلم کے پروڈیوسر فیروز نادیادوالا کی جانب سے کیے گئے وعدے کے مطابق معاوضہ نہیں دیا گیا۔
گزشتہ برس ایک گفتگو کے دوران مشتاق خان نے تفصیل سے بتایا تھا کہ ویلکم کے بنانے والوں کی جانب سے مجھے غیر منصفانہ سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔
خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا تھا کہ جب ہم معاہدے پر دستخط کرتے ہیں تو ہمیں بتایا جاتا ہے کہ شوٹنگ 20 یا 25 دن کی ہو گی، ہم اسی بنیاد پر اپنا معاوضہ طے کرتے ہیں لیکن 25 دن کی شوٹنگ مکمل ہونے کے بعد مجھ سے مزید 10 دن کام کرنے کو کہا گیا، اس کے بعد مزید 15 دن لیکن معاوضے میں اضافہ نہیں کیا گیا، مجھے یہ مناسب نہیں لگا۔
اداکار نے کہا تھا کہ میں آپ کو اس کی وجہ بتاتا ہوں، ہمارے لیے یہ طے تھا کہ فلم مکمل کرنے کے عوض 1 لاکھ روپے دیے جائیں گے، چاہے شوٹنگ 20 دن چلے یا 25 دن لیکن فلم کا عملہ یومیہ اجرت کی بنیاد پر کام کرتا تھا، ذرا تصور کریں کہ اگر ہمیں بھی یومیہ بنیاد پر ادائیگی کی جاتی تو ہم کتنے پیسے کما سکتے تھے؟
کم معاوضہ ملنے کے باوجود مشتاق خان نے انیس بزمی کی فلم سیریز کے 2015ء میں ریلیز ہونے والے سیکوئل ویلکم بیک میں بھی بالو کا کردار دوبارہ ادا کیا تھا۔
خیال رہے کہ معروف اداکار مشتاق خان پھیپھڑوں کے کینسر سے طویل جنگ لڑنے کے بعد گزشتہ روز 56 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔