نیویارک کے علاقے کوئینز کے جمیکا اسٹیٹس میں واقع امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بچپن کا گھر 1.93 ملین ڈالرز میں فروخت ہو گیا۔
ٹیوڈر طرز کا یہ گھر 1940ء میں ٹرمپ کے والد اور ریئل اسٹیٹ کی کاروباری شخصیت فریڈ ٹرمپ نے تعمیر کروایا تھا، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی زندگی کے ابتدائی 4 سال اسی گھر میں گزارے تھے۔
رپورٹس کے مطابق کافی عرصے تک خالی رہنے کے باعث یہ گھر انتہائی خستہ حال ہو گیا تھا، پائپ پھٹنے سے پانی کے رساؤ کے باعث عمارت کو نقصان پہنچا تھا، پھپھوندی پھیل گئی تھی جبکہ گھر میں جنگلی بلیوں کی بھر مار بھی ہو گئی تھی۔
گھر کے ڈیولپر ٹومی نے اسے 83 لاکھ 5000 ڈالرز میں خریدا اور 8 ماہ کے دوران 500000 ڈالرز سے زائد خرچ کر کے اس کی وسیع پیمانے پر تزئین و آرائش کی۔
تزئین و آرائش کے بعد 5 بیڈ روم اور 3 باتھ رومز پر مشتمل گھر کو جدید رہائش گاہ میں تبدیل کر دیا گیا، تاہم اس کا تاریخی بیرونی ڈھانچہ برقرار رکھا گیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے بچپن کے گھر میں جدید باورچی خانہ، مخصوص انداز کا لکڑی کا فرش اور اسپا طرز کے غسل خانے شامل کیے گئے ہیں۔
ریئل اسٹیٹ ایجنٹس کے مطابق گھر کی منفرد صدارتی تاریخ نے خریداروں کی دلچسپی میں نمایاں اضافہ کیا تاہم یہ گھر حتمی طلب کردہ قیمت سے کچھ کم میں فروخت ہوا ہے۔