اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ماہرین نے طالبان رجیم سے نیا عدالتی ضابطہ فوجداری واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔
افغان میڈیا کے مطابق انسانی حقوق ماہرین نے طالبان کے نئے عدالتی ضابطہ فوجداری کو بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دے دیا۔
انسانی حقوق ماہرین کی جانب سے سر عام کوڑے مارنے کو غیرقانونی اور انسانی وقار کی تذلیل قرار دیتے ہوئے خاتمے پر زور دیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فوجداری ضابطہ میں جرائم کی مبہم تشریح اور ججز کے لامحدود اختیارات سے بےگناہ اور کمزور طبقات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔