گھٹنوں کا درد اب صرف بڑھاپے تک محدود نہیں رہا بلکہ نوجوانوں میں بھی تیزی سے سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس رجحان کی بڑی وجوہات میں غیر متحرک طرزِ زندگی، بڑھتا ہوا جسمانی وزن اور کھیل یا روزمرہ سرگرمیوں کے دوران لگنے والی چوٹیں شامل ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ گھٹنے تقریباً ہر روزمرہ حرکت میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں، چاہے وہ چلنا ہو، سیڑھیاں چڑھنا یا ورزش کرنا] اسی وجہ سے اگر ان کی مناسب دیکھ بھال نہ کی جائے تو یہ آسانی سے دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ معمولی تکلیف کو نظرانداز کرنے سے وقت کے ساتھ یہ سنگین جوڑوں کے مسائل میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
ماہرینِ صحت اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مناسب جسمانی وزن برقرار رکھنا گھٹنوں کی حفاظت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ معمولی اضافی وزن بھی جوڑوں پر دباؤ کو نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے۔
گھٹنوں کے اردگرد موجود پٹھوں کو مضبوط بنانا بھی نہایت اہم سمجھا جاتا ہے، اسکواٹس، ٹانگوں کی ورزشیں اور سائیکلنگ جیسی باقاعدہ جسمانی سرگرمیاں جوڑوں کو بہتر سہارا فراہم کرتی ہیں اور چوٹ کے خطرے کو کم کرتی ہیں۔
ماہرین مناسب جوتوں کے استعمال کی بھی سفارش کرتے ہیں، آرام دہ اور نرم تلووں والے جوتے گھٹنوں پر دباؤ کم کرتے ہیں، جبکہ غیر موزوں جوتے درد اور سوجن کا سبب بن سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ بیٹھنے، کھڑے ہونے اور وزن اٹھانے کے دوران درست انداز اپنانا بھی اہم حفاظتی اقدام ہے۔
غذائیت کے حوالے سے ماہرین کیلشیئم اور وٹامن ڈی سے بھرپور غذا لینے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ ہڈیوں کو مضبوط بنایا جا سکے، جبکہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سوزش کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
ڈاکٹرز ابتدائی علامات جیسے ہلکے درد یا سوجن کو نظرانداز نہ کرنے کی بھی ہدایت دیتے ہیں، کیونکہ علاج میں تاخیر مزید پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند روزمرہ عادات اپنانے سے ناصرف طویل مدت میں گھٹنوں کی حفاظت ممکن ہے بلکہ مجموعی معیارِ زندگی بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔