امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ امریکی بحری افواج ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے روانہ ہونے والے جہازوں پر عائد پابندیوں کے نفاذ کے دوران مسلسل نگرانی کر رہی ہیں، جبکہ خلیجِ عمان میں متعدد جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے۔
سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر یو ایس ایس ڈیلبرٹ ڈی بلیک (DDG-119) پر تعینات ملاح چوکس کھڑے ہیں، جبکہ امریکی افواج ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں داخل یا روانہ ہونے کی کوشش کرنے والے جہازوں کے خلاف ناکہ بندی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
سینٹکام کے مطابق طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن (CVN-72) بحیرۂ عرب میں ناکہ بندی کی کارروائیاں انجام دے رہا ہے] اس طیارہ بردار جہاز کے ایئر ونگ میں ایف-35 سی اسٹیلتھ فائٹر طیارے، ایف/اے-18 جیٹ، ای اے-18 جی الیکٹرانک حملہ آور طیارے، ای-2 ڈی کمانڈ اینڈ کنٹرول طیارے، ہیلی کاپٹرز اور لاجسٹک معاون طیارے شامل ہیں۔
سینٹکام نے ایک آڈیو اور ویڈیو بھی جاری کی ہے، جس میں امریکی بحریہ ایک ڈسٹرائر کو تجارتی جہازوں کو ایرانی بندرگاہوں کی جانب واپس جانے کا حکم دیتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
امریکا نے کہا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کو ہدف بنانے والی اس کی سمندری نگرانی اور نفاذ کی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔
سینٹکام کے مطابق خلیجِ عمان میں متعدد جہازوں کا رخ موڑا جا چکا ہے۔
سینٹکام نے بتایا ہے کہ امریکی بحریہ کے ایک ڈسٹرائر نے ایک تجارتی جہاز کو واپس جانے کا حکم دیا، جو ایرانی بندرگاہوں سے منسلک شپنگ کو محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
حکام کے مطابق یہ آپریشن کشیدگی کے دوران خطے میں وسیع تر سمندری نگرانی کی سرگرمیوں کا حصہ ہے۔
سینٹکام کی جاری کردہ ویڈیو میں یو ایس ایس مائیکل مرفی (DDG-112) سے لی گئی فوٹیج شامل ہے، جس میں خلیجِ عمان کے اوپر ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے فضائی نگرانی بھی دکھائی گئی ہے۔
جاری کردہ مناظر میں تجارتی جہازوں کو ٹریک کرتے اور ان سے رابطہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو روک تھام کے طریقہ کار کا حصہ ہیں۔